ایران کو دہشتگرد ملک قرار دینے والے جج کا دماغی معائنہ کروایا جائے، قاسم علی قاسمی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
فوکل پرسن شیعہ علماء کونسل پنجاب کا کہنا ہے کہ ریاست پاکستان نے کبھی بھی ایران کو دہشت گرد ریاست قرار نہیں دیا، جج کے الفاظ امریکی موقف تو ہو سکتا ہے کسی پاکستانی اور مسلمان کا موقف نہیں ہو سکتا، جج کے ایسا فیصلہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پنجاب کے فوکل پرسن قاسم علی قاسمی نے اسلام آباد کے جج افضل مجوکہ کے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ کیخلاف کیس کے فیصلے میں ایران سمیت چار ممالک کو دہشت گرد قرار دینے کی مذمت کرتے ہوئے موصوف جج کے دماغی معائنے اور ان کی قانونی تعلیمی ڈگریاں چیک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ریاست پاکستان نے کہیں کبھی بھی ایران کو دہشت گرد ریاست قرار نہیں دیا اور نہ ہی کوئی مسلمان ایسا کرنے کے بارے میں سوچ سکتا ہے، موصوف جج نے جو الفاظ اپنے فیصلے میں لکھے ہیں وہ امریکہ اور اسرائیل کا موقف تو ہو سکتا ہے کسی پاکستانی اور مسلمان کا موقف نہیں ہو سکتا۔
قاسم علی قاسمی کا کہنا تھا کہ موصوف جج اس منصب کے بالکل اہل نہیں اور انہیں عالمی و ملکی حالات کا بھی پتہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لگتا ہے کہ انہیں فیصلہ لکھ کر دیا گیا ہے اور لکھنے والے بھی بالکل ناہل اوران پڑھ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے جو خط حکومت کولکھا ہے وہ بالکل حق بجانب ہے، ایک اسلامی ریاست جس کا پاکستان کے ساتھ تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں اور وہ اس وقت اسرائیل اور امریکہ کے خلاف مسلمانوں کے قائد کے طور پر امت مسلمہ کا د فاع کرنے والا ملک ہے، اس کے جج کے ایسا فیصلہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہو سکتا
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔