حکومتِ پاکستان نے قومی کرکٹ ٹیم کو ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت دے دی ہے، تاہم پاکستان ٹیم بھارت کے خلاف اپنا طے شدہ میچ نہیں کھیلے گی۔ اس فیصلے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے پاکستان میں کرکٹ پر طویل المدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

آئی سی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ عالمی کھیل اور دنیا بھر کے شائقین، بالخصوص پاکستان کے لاکھوں کرکٹ مداحوں کے مفاد میں نہیں ہے۔

The Government of the Islamic Republic of Pakistan grants approval to the Pakistan Cricket Team to participate in the ICC World T20 2026, however, the Pakistan Cricket Team shall not take the field in the match scheduled on 15th February 2026 against India.

— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) February 1, 2026

دوسری جانب اس فیصلے پر سوشل میڈیا پر بھی مختلف ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ متعدد صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کا سامنا سیمی فائنل یا فائنل میں ہو گیا تو اس صورتِ حال میں کیا فیصلہ کیا جائے گا؟ کیا پاکستان ٹیم میچ چھوڑ کر واپس آ جائے گی یا پھر کھیلنے کا فیصلہ کیا جائے گا؟

اور اگر انڈیا کے ساتھ سیمی فائنل یا فائنل آ جاتا ہے تب کیا فیصلہ ہو گا؟ پاکستان وہ میچ چھوڑ کر گھر آ جائے گا یا دہشتگردوں کی پُشت پناہی بُھلا کر میچ کھیلے گا؟ ???? pic.twitter.com/vFO2Dp4OlM

— Fayyaz Shah (@RebelByThought) February 1, 2026

نصیر اعوان کے مطابق اب بھارت اور آئی سی سی کو اس فیصلے کے نتائج کا اندازہ ہو گا، کیونکہ آمدن کا بڑا حصہ پاکستان اور بھارت کے میچ سے وابستہ ہوتا ہے، اور اس میچ کے بغیر براڈکاسٹرز کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اب تو براڈ کاسٹرز تو ڈوب جائیں گے‘۔

پاکستان ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت کرے گا، لیکن 15 فروری کو بھارت کے ساتھ میچ نہیں کھیلے گا،

حکومت پاکستان کا اہم فیصلہ

اب پتہ چلے گا انڈیا اور آئی سی سی کو

کیونکہ سارا پیسہ ہی پاک انڈیا میچ میں بنتا ہے۔

براڈ کاسٹرز تو ڈوب جائیں گے۔

قسم سے مزہ آگیا بہت دلیرانہ فیصلہ کیا ہے????❤️

— Naseer Awan(نصیر اعوان) (@MNasAwan555) February 1, 2026

ظفر اقبال نے کہا کہ  پاکستان کی جانب سے آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت اور بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ ایسا چھکا ہے جس نے انڈیا اور آئی سی سی کو کلین بولڈ کر دیا ہے۔ اور انڈیا سوائے ماتم کے کچھ بھی نہیں کر سکتا۔

پاکستان کا ائی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ اور پاکستان انڈیا کے میچ کا بائیکاٹ ایسا ماسٹر اسٹوک مطلب چھکا ہے جس نے انڈیا اور ائی سی سی کو کلین بولڈ کر دیا ہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ ائی سی سی اور انڈیا سوائے ماتم کے کچھ کر بھی نہیں سکتے ۔ پاکستان کے شرکت کے اعلان سے

— ZafarIqbal58 (@ZafarIqbal58) February 1, 2026

جمیل فاروقی نے لکھا کہ ان حالات میں یہ بہت اچھا فیصلہ ہے۔

پاکستان نے آئی سی سی ورلڈ T20 میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کرکے رعونت میں اَٹے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ہے ، ہم ٹورنامنٹ میں ضرور رہیں گے لیکن بھارت کیساتھ نہیں کھیلیں گے ، میرے حساب سے اِن حالات میں یہ اچھا فیصلہ ہے

— Jameel Farooqui (@FarooquiJameel) February 1, 2026

ایک اور صارف نے کہا کہ پاکستان نے ورلڈ کپ میں انڈیا سے نا کھیلنے کا فیصلہ بنگلہ دیش کے لیے کیا ہے ہم اپنے بنگالی بھائیوں کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ وہ اب اکیلے نہی ہیں دونوں بھائی انڈیا کے خلاف ایک ہیں۔

پاکستان نے ورلڈ کپ میں انڈیا سے نا کھیلنے کا فیصلہ بنگلہ دیش کے لیے کیا ہے ہم اپنے بنگالی بھائیوں کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ وہ اب اکیلے نہی ہیں دونوں بھائی انڈیا کے خلاف ایک ہیں

— RAShahzaddk (@RShahzaddk) February 1, 2026

ذیشان اعوان نے کہا کہ بائیکاٹ کرنا، میچ سے بھاگنا، ٹرافی نہ لینا اور ہاتھ نہ ملانا جیسی چھوٹی حرکتیں بھارت کو زیب دیتی ہیں ہمیں نہیں، پاکستان کو بھارت کے ساتھ ورلڈ کپ کا میچ کھیلنا چاہیے اور ہرا کر جواب دینا چاہیے۔

بائیکاٹ کرنا، میچ سے بھاگنا، ٹرافی نہ لینا،ہاتھ نہ ملانا جیسی چھوٹی حرکتیں بھارت کو زیب دیتی ہیں، ہمیں نہیں، پاکستان کو بھارت کے ساتھ ورلڈ کپ کا میچ کھیلنا چاہیے اور ہرا کر جواب دینا چاہیے.#T20WorldCup #PakistanCricket #PakvsIndia

— Muhammad Zeeshan Awan (@surrakimuhammad) February 1, 2026

احمد منصور لکھتے ہیں کہ آئی سی سی اور بھارت کو اس ایک میچ کے نہ ہونے سے جو مالی نقصان پہنچے گا اس کا اندازہ بھارت میں زوردار چیخوں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

پاکستان کا ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ دانشمندانہ ہے، مگر بھارت سے میچ نہ کھیلنا بالکل درست مؤقف۔۔ اسی سے ان کی ساری اکڑ نکل جانی۔
کون نہیں جانتا بھارت کے زیرِ اثر چلنے والا ICC جانبدار ہے، کھیل ضروری ہے، لیکن جب اگلے کھیل کو سیاست سے تباہ کرنے پر آ جائیں تو بنگلہ دیش سے یکجہتی… https://t.co/LFpr0rcnRo

— Ahmed Mansoor (@AhmedMansorReal) February 1, 2026

واضح رہے کہ اس سے قبل آئی سی سی نے بھارت میں کھیلنے سے انکار پر بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے باہر کر کے اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ایونٹ میں شامل کیا تھا۔ اس فیصلے پر چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے آئی سی سی کے اقدام کو ناانصافی اور دہرا معیار قرار دیا تھا۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ کوئی ایک ملک تمام فیصلے مسلط نہیں کر سکتا اور بنگلہ دیش پر بھی وہی اصول لاگو ہونے چاہییں جو دیگر ممالک پر ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی ملک کو سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر کسی دوسرے ملک میں کھیلنے سے انکار کا حق حاصل ہے تو یہی حق بنگلہ دیش کو بھی دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی سی سی بنگلہ دیش پاکستان انڈیا پاکستان انڈیا میچ پاکستان بمقابلہ انڈیا پی سی بی ٹی20 ورلڈ کپ محسن نقوی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش پاکستان انڈیا پاکستان انڈیا میچ پاکستان بمقابلہ انڈیا پی سی بی ٹی20 ورلڈ کپ محسن نقوی ورلڈ کپ میں شرکت کھیلنے کا فیصلہ بھارت کے خلاف ٹی20 ورلڈ کپ پاکستان نے پاکستان کا اور بھارت بنگلہ دیش انڈیا کے بھارت کو اس فیصلے سی سی کو کے ساتھ میچ نہ کیا ہے

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ