اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں ڈپلومیٹک انکلیو میں وزیراعلیٰ اور گورنر بلوچستان کیلئے مہمان خانے کی تعمیرکیس میں جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ حکومت کہیں بھاگ نہیں رہی، یہیں پر ہے،ویسے بھی بینک گارنٹی کی آخری تاریخ 30جون 2026 ہےعبوری حکومت تھی، وہ صاحب جلدی میں ہوں گے، انہوں نے تختی لگا دی ہو گی۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں ڈپلومیٹک انکلیو میں وزیراعلیٰ اور گورنر بلوچستان کیلئے مہمان خانے کی تعمیرکے معاملے پر سماعت ہوئی،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس عرفان سعادت پر مشتمل 2رکنی بنچ نے سماعت کی ۔

 شاہ رخ اور گوری کی محبت کی وجہ میں بنی تھی‘  نیلم  کوٹھاری

وکیل کنسٹرکیشن کمپنی نے کہاکہ نگران وزیراعلیٰ بلوچستان نے منصوبے کاافتتاح کیا، ہم نے آلات کی موبلائزیشن کیلئے ایڈوانس گارنٹی جمع کرائی،بعد میں منصوبے کی تعمیر کا نوٹیفکیشن منسوخ کردیاگیا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ ٹرائل کورٹ میں ثالثی کیلئے معاملہ زیرالتوا ہے،وکیل کمپنی نے کہاکہ یہ ایڈوانس گارنٹی واپس لینے کا کیس ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ حکومت کہیں بھاگ نہیں رہی، یہیں پر ہے،ویسے بھی بینک گارنٹی کی آخری تاریخ 30جون 2026 ہےعبوری حکومت تھی، وہ صاحب جلدی میں ہوں گے، انہوں نے تختی لگا دی ہو گی۔

 لاہور،اچھرہ جیولری اسکینڈل،  پولیس افسران و اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج، اختیارات کے ناجائز استعمال کی دفعات شامل

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا