نگران وزیراعلیٰ بلوچستان جلدی میں ہوں گے، انہوں نے تختی لگا دی ہو گی؛جسٹس جمال مندوخیل کے ڈپلومیٹک انکلیو میں وزیراعلیٰ اور گورنر بلوچستان کیلئے مہمان خانے کی تعمیرکیس میں ریمارکس
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں ڈپلومیٹک انکلیو میں وزیراعلیٰ اور گورنر بلوچستان کیلئے مہمان خانے کی تعمیرکیس میں جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ حکومت کہیں بھاگ نہیں رہی، یہیں پر ہے،ویسے بھی بینک گارنٹی کی آخری تاریخ 30جون 2026 ہےعبوری حکومت تھی، وہ صاحب جلدی میں ہوں گے، انہوں نے تختی لگا دی ہو گی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں ڈپلومیٹک انکلیو میں وزیراعلیٰ اور گورنر بلوچستان کیلئے مہمان خانے کی تعمیرکے معاملے پر سماعت ہوئی،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس عرفان سعادت پر مشتمل 2رکنی بنچ نے سماعت کی ۔
شاہ رخ اور گوری کی محبت کی وجہ میں بنی تھی‘ نیلم کوٹھاری
وکیل کنسٹرکیشن کمپنی نے کہاکہ نگران وزیراعلیٰ بلوچستان نے منصوبے کاافتتاح کیا، ہم نے آلات کی موبلائزیشن کیلئے ایڈوانس گارنٹی جمع کرائی،بعد میں منصوبے کی تعمیر کا نوٹیفکیشن منسوخ کردیاگیا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ ٹرائل کورٹ میں ثالثی کیلئے معاملہ زیرالتوا ہے،وکیل کمپنی نے کہاکہ یہ ایڈوانس گارنٹی واپس لینے کا کیس ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ حکومت کہیں بھاگ نہیں رہی، یہیں پر ہے،ویسے بھی بینک گارنٹی کی آخری تاریخ 30جون 2026 ہےعبوری حکومت تھی، وہ صاحب جلدی میں ہوں گے، انہوں نے تختی لگا دی ہو گی۔
لاہور،اچھرہ جیولری اسکینڈل، پولیس افسران و اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج، اختیارات کے ناجائز استعمال کی دفعات شامل
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :