بسنت میں تین روز باقی، پتنگ اور ڈور کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
سٹی42: لاہور میں بسنت میلہ قریب آتے ہی پتنگوں اور ڈور کی قیمتیں عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں، جس کے باعث بسنت کا جشن مہنگائی کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ دکانداروں نے من مانی قیمتیں وصول کرنا شروع کر دی ہیں اور گزشتہ روز کے مقابلے میں آج پتنگوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ایک تاوا پتنگ کی قیمت 300 روپے سے بڑھا کر 400 روپے کر دی گئی ہے، جبکہ ڈیڑھ تاوا پتنگ 400 روپے سے بڑھ کر 600 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ اسی طرح دو پیس ڈور کا پنا 12 ہزار سے بڑھ کر 15 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔
لاہورسمیت پنجاب بھرمیں ڈرون سکواڈتیارکرنےکافیصلہ
قیمتوں میں اضافے نے شہریوں کی بسنت کی خوشی ماند کر دی ہے۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے دوستوں کے ساتھ مل کر بسنت منانے کا محدود بجٹ بنایا تھا، تاہم 10 سے 15 پتنگوں کے بجٹ میں اب صرف 5 پتنگیں ہی خریدی جا سکتی ہیں۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں میں بے قابو اضافے کا نوٹس لیا جائے۔
شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے قیمتوں کی نگرانی کے لیے کوئی اہلکار بازاروں میں نظر نہیں آ رہا، جس کے باعث دکاندار اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہے ہیں۔
دفتر میں کام کے زیادہ دباؤ سے نوجوان دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگیا
دوسری جانب دکانداروں کا مؤقف ہے کہ سپلائی کم جبکہ ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ سے قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے پتنگوں کی کوئی سرکاری قیمت مقرر نہیں کی، اسی لیے ہر دکاندار اپنے اسٹاک کے مطابق ریٹ مقرر کر رہا ہے۔
ادھر بسنت قریب آتے ہی پتنگوں کی تیاری اور فروخت میں تیزی آ گئی ہے، تاہم مہنگائی کے باعث ایک تاوا گڈے کی مانگ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ باغبانپورہ بازار میں ایک تاوا گڈا 300 سے 350 روپے جبکہ ڈیڑھ تاوا گڈا 450 سے 550 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
حکومت کا ایئرپورٹ کے علاقوں میں پتنگ بازی پر پابندی کا فیصلہ
دکانداروں کے مطابق پیپر، تیر کمان اور دھاگے کی عدم دستیابی کے باعث آرڈرز پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پتنگوں کا کوئی باقاعدہ ریٹ موجود نہیں، جس کے پاس جتنا اسٹاک ہے وہ اسی حساب سے قیمت وصول کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 کا کہنا ہے کہ کے باعث رہا ہے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔