چین اور دنیا کے تعاون سے وافرثمرات برآمد ہو سکتے ہیں، چینی میڈیا WhatsAppFacebookTwitter 0 2 February, 2026 سب نیوز

بیجنگ : سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو نے مستقبل کی صنعتوں میں پیش رفت اور اس کے امکانات کے حوالے سے ایک اجتماعی مطالعہ اجلاس کا انعقاد کیا۔ سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے جنرل سیکرٹری شی جن پھنگ نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں مضبوط ملک کی تعمیر اور قومی نشاۃ ثانیہ کے عظیم نصب العین کو مدنظر رکھتے ہوئے اسٹریٹجک نقطہ نظر سے کام لینا ہوگا، معروضی حالات کی بنیاد پر اپنی برتریوں سے فائدہ اٹھانا ہوگا اور استحکام کے ساتھ پیش رفت کرنے کے اصول پر قائم رہتے ہوئے مستقبل کی صنعتوں کی ترقی کو مسلسل فروغ دینا ہوگا۔

چین کی اعلیٰ ترین قیادت کی جانب سے ملک کی طویل مدتی ترقی سے متعلق اسٹریٹجک موضوع پر توجہ مرکوز کرنے سے نہ صرف ” پندہویں پانچ سالہ منصوبے” کے دوران چین کے صنعتی ڈھانچے کی اپ گریڈنگ اور قوت محرکہ کی تبدیلی کے لیے اہم سمتوں کا واضح طور پر خاکہ پیش کیا گیا ہے، بلکہ صنعت اور ٹیکنالوجی کے عالمی انقلاب کی نئی لہروں میں دنیا کی اقتصادی بحالی اور پائدار ترقی کے لئے مضبوط محرک وقت فراہم کی گئی ہے۔مستقبل کی صنعتیں جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے وہ ابھرتے ہوئی صنعتیں ہیں، جو ابھی تک ترقی یا صنعت کاری کے ابتدائی مراحل میں ہیں، اور اسٹریٹجک، رہنما، انقلابی ، اور غیر یقینی خصوصیات کی حامل ہیں۔اس وقت، عالمی تکنیکی اور صنعتی انقلاب کا ایک نیا دور بے مثال کثافت اور تحرک کے ساتھ سامنے آ رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، بائیو مینوفیکچرنگ، کنٹرولڈ نیوکلیئر فیوژن، اور برین کمپیوٹر انٹرفیس جیسی انقلابی ٹیکنالوجیز تیزی سے لیبارٹری سے مارکیٹ میں منتقل ہو رہی ہیں،جس سے عالمی مسابقتی منظر نامے کو ایک نئی شکل مل رہی ہے ۔

مختلف ممالک برتری کے حصول کے لئے یکے بعد دیگرے پالیسیاں متعارف کروا رہے ہیں جس میں امریکہ کا لامتناہی فرنٹیئرز ایکٹ ، یورپی یونین کی مستقبل کے لیے صنعتی چین کو مضبوط بنانے کی رپورٹ، اور عالمی صنعتی مقابلوں کے منظر نامے کا ازسرنو ترتیب دیا جا نا شامل ہیں ۔ اس پس منظر میں، چین کی مستقبل کی صنعتوں کی تزویراتی ترقی نہ صرف اس کی اپنی اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے ایک فطری ضرورت ہے بلکہ عالمی مشترکہ ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک ناگزیر انتخاب بھی ہے۔مستقبل کی صنعتوں کی ترقی میں چین کے پٌاس منفرد برتریاں موجود ہیں۔ نیا قومی نظام جدید تکنیکی چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے وسائل کو اکٹھا کر سکتا ہے، دنیا کا سب سے مکمل صنعتی نظام تکنیکی نتائج کی منتقلی کے لیے ٹھوس مدد فراہم کرتا ہے، اور انتہائی بڑی مارکیٹ نئی ٹیکنالوجیز کے اطلاق کے لیے وافر منظرنامے فراہم کرتی ہے۔ ورلڈ انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن کی 2025 کی گلوبل انوویشن انڈیکس رپورٹ کے مطابق، چین پہلی بار گلوبل انوویشن انڈیکس میں چوتھی پوزیشن کے ساتھ ٹاپ ٹین میں داخل ہوا ہے، اور یہ چین کی اب تک کی سب سے اعلیٰ درجہ بندی ہے ۔

گلوبل کریٹیکل اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز انڈیکس کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق چین مسلسل تیسرے سال دنیا کے ٹاپ 100 اختراعی کلسٹرز کی تعداد میں پہلے نمبر پر ہے۔ یہ کامیابیاں چین کی اختراعی صلاحیتوں میں مسلسل بہتری کو ظاہر کرتی ہیں اور مستقبل کی صنعتوں کی ترقی کے لئے ٹھوس بنیاد فراہم کرتی ہیں۔چین کی مستقبل کی صنعتوں کی ترقی کبھی بھی بند کمرے میں نہیں کی جاتی بلکہ شروعات ہی سے کھلے پن اور تعاون کے تصور پر قائم رہی ہے۔ سی پی ٹی پی پی اور ڈی ای پی اے جیسے اعلیٰ بین الاقوامی تجارتی اور اقتصادی معیارات سے ہم آہنگ ہونے سے لے کر بڑے پیمانے پر سائنسی سہولیات جیسے کہ “چائنا اسکائی آئی” اور مکمل طور پر سپر کنڈکٹنگ ٹوکامک نیوکلیئر فیوژن تجرباتی ڈیوائس کے اشتراک تک، چین “ماحول کی مشترکہ تعمیر” کے ایک نئے ماڈل کے ذریعے عالمی سائنسی اور تکنیکی تعاون میں گہرائی سے حصہ لے رہا ہے۔ 2025 تک، چین نے 70 سے زیادہ بیلٹ اینڈ روڈ جوائنٹ لیبارٹریز کی تعمیر کو فروغ دیا، 80 سے زیادہ شراکت دار ممالک کے ساتھ تعاون کے سائنسی اور تکنیکی تعلقات قائم کیے، 120 سے زائد بین الحکومتی سائنسی اور تکنیکی تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے، اور 200 سے زائد بین الاقوامی تنظیموں اورکثیر الجہتی میکانزم میں شمولیت اختیار کی اور “بنیادی تحقیق – اطلاقی ترقی – کامیابی کی تبدیلی – صنعتی انکیوبیشن” کا نیا عالمی اختلاعاتی کلوز سرکل قائم کیا ہے۔

مستقبل کی صنعتوں کے بہت سے شعبوں میں چین کے کھلے تعاون کے وافر ثمرات دکھائی دے رہے ہیں۔ انٹرنیشنل تھرمونیوکلیئر ایکسپپیریمنٹل ری ایکٹر (ITER) منصوبے میں، چین نے تقریباً 10فیصد پروکیورمنٹ مشن انجام دیتے ہوئے عالمی “مصنوعی سورج” کے منصوبے میں کلیدی قوت فراہم کی ہے ۔ انٹرنیشنل مون ریسرچ سٹیشن کی تعمیر نے 17 ممالک کی شرکت کو راغب کیا، اور چاند کے تاریک علاقوں کے نمونے اور چاند کی تلاش کے پے لوڈ وسائل عالمی تعاون کی ایک کڑی بن گئے۔ ربوٹ کیمسٹری ٹیکنالوجی کو جنوب مشرقی ایشیا، افریقہ اور دیگر خطوں میں فروغ دیا گیا،

جس سے ترقی پذیر ممالک کو توانائی اور ادویات کے شعبوں میں تکنیکی مشکلات پر قابو پانے میں مدد ملی۔ یہ طرز عمل واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ “سائنس امن کے لیے ایک محرک قوت ہے” ۔ یہ عالمی جدت طرازی کی کامیابیوں کے جامع اشتراک کو فروغ دینے میں ایک بڑی طاقت کے طور پر چین کی ذمہ داری کو بھی ظاہر کرتا ہے۔اس وقت، عالمی تکنیکی مقابلہ اور تعاون بیک وقت موجود ہے، اور صرف مشترکہ کوششوں سے ہی ہم مستقبل کی صنعتوں کی ترقی کو روشن کر سکتے ہیں۔ چین اپنی برتریوں سے فائدہ اٹھانا جاری رکھے گا اور نئی توانائی اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون کو گہرا کرنے کے لیے ایک آزاد، کھلا اور ہم آہنگ طریقہ اپنائے گا تاکہ بنی نوع انسان کے ایک قریبی اور زیادہ خوشحال ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو فروغ دے ۔ انسانیت کے مستقبل سے وابستہ اس صنعتی انقلاب میں، چین کی تلاش اور جدوجہد یقیناً عالمی اقتصادی ترقی کے لیے نیا میدان کھولے گی اور پائیدار انسانی ترقی کے لیے ایک نیا باب رقم کرے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسول و پولیس افسران کی گریڈ 18سے 19میں ترقیوں کیلئے ڈیپارٹمنٹل سلیکشن بورڈ کا اجلاس موخر اگلی خبرخامنہ ای کی دھمکی کے بعد ٹرمپ نے ایران سے ممکنہ معاہدے کیلئے امید ظاہر کردی وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے پی کے درمیان ملاقات، سکیورٹی کی صورتحال سمیت اہم امور زیر غور سندھ طاس معاہدے کے مکمل اور منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتے ہیں: وزیراعظم خامنہ ای کی دھمکی کے بعد ٹرمپ نے ایران سے ممکنہ معاہدے کیلئے امید ظاہر کردی سول و پولیس افسران کی گریڈ 18سے 19میں ترقیوں کیلئے ڈیپارٹمنٹل سلیکشن بورڈ کا اجلاس موخر عالمی برادری بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت کی صورتحال کا نوٹس لے، بلاول بھٹو ایرانی پارلیمنٹ نے یورپی یونین کے ممالک کی افواج کو دہشتگرد گروہ قرار دیدیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت

دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139  نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا