Juraat:
2026-07-24@00:54:33 GMT

ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل

اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT

ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل

محمد آصف

عالمی سیاست میں طاقت، مفادات اور نظریات کی کشمکش ہمیشہ سے جاری رہی ہے ، مگر اکیسویں صدی میں یہ کشمکش نئی شکلوں میں سامنے آئی ہے ۔ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی اور ان کے پیش کردہ مختلف امن منصوبے یا جسے بعض مبصرین ٹرمپ پیس بورڈ کا نام دیتے ہیں، عالمی سطح پر خاصی توجہ کا مرکز بنے ۔ اس تصور کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ امریکہ اپنی طاقت، معاشی اثر و رسوخ اور سفارتی دباؤ کو استعمال کرتے ہوئے عالمی تنازعات کو اپنے مفادات کے مطابق حل کروائے ۔ تاہم روس اور چین جیسے بڑے عالمی طاقتیں اس حکمتِ عملی کو کس زاویے سے دیکھتی ہیں، یہ سوال بین الاقوامی تعلقات کے طلبہ اور تجزیہ کاروں کے لیے نہایت اہم ہے ۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا بنیادی نعرہ امریکہ فرسٹ تھا۔ اس سوچ کے تحت انہوں نے کئی بین الاقوامی معاہدوں پر نظرثانی کی، بعض سے علیحدگی اختیار کی اور اتحادی ممالک پر زیادہ مالی و دفاعی ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کی۔ ان کے دور میں نیٹو، پیرس ماحولیاتی معاہدہ، ایران نیوکلیئر ڈیل اور عالمی تجارتی تنظیم جیسے فورمز پر امریکہ کا رویہ نسبتاً سخت اور خود مختار نظر آیا۔ اسی پس منظر میں ٹرمپ کی جانب سے مختلف تنازعات کے حل کے لیے پیش کیے گئے منصوبے بھی سامنے آئے ، جن میں مشرقِ وسطیٰ کا امن منصوبہ اور شمالی کوریا سے مذاکرات شامل ہیں۔
اصطلاح پیس بورڈ دراصل ٹرمپ کے اس عمومی نظریے کی علامت ہے جس کے تحت وہ عالمی تنازعات کو ایک کاروباری معاہدے کی طرح دیکھتے تھے ۔ ان کے نزدیک امن ایک ایسا معاہدہ ہے جس میں دونوں فریق کچھ نہ کچھ حاصل کریں، مگر اصل فائدہ امریکہ کے اسٹریٹجک اور معاشی مفادات کو ہو۔ اس سوچ میں طاقت کا توازن، پابندیاں، تجارتی دباؤ اور سفارتی مراعات مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔
روس، جو خود کو ایک بڑی عالمی طاقت اور امریکہ کے مقابل ایک متبادل قطب کے طور پر دیکھتا ہے ، ٹرمپ کی پالیسیوں کو ملا جلا ردِعمل دیتا رہا ہے ۔ ایک طرف ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ذاتی سطح پر نسبتاً بہتر تعلقات کی خبریں سامنے آئیں، تو دوسری طرف نیٹو کی توسیع، یوکرین کا تنازع اور پابندیوں کے معاملے پر دونوں ممالک آمنے سامنے رہے ۔
روس کے نزدیک ٹرمپ کا امن بورڈ دراصل امریکی بالادستی کو برقرار رکھنے کی ایک نئی شکل ہے ۔ روسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ امن کے نام پر ایسے معاہدے چاہتا ہے جن میں اس کے اسٹریٹجک مفادات کو ترجیح دی جائے ، جبکہ دیگر طاقتوں کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے ۔ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے حق میں امریکی جھکاؤ اور یورپ میں نیٹو کی موجودگی روس کے لیے تشویش کا باعث رہی ہے ۔ تاہم روس نے ٹرمپ کے اس رویے میں ایک موقع بھی دیکھا۔ چونکہ ٹرمپ عالمی اداروں پر کم اعتماد رکھتے تھے ، اس لیے روس نے دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ اس کی مثال اسلحہ کنٹرول معاہدوں پر بات چیت اور شام کے مسئلے پر امریکہ کے ساتھ محدود تعاون ہے ۔
چین، جو تیزی سے ابھرتی ہوئی عالمی طاقت ہے ، ٹرمپ کی پالیسیوں کو زیادہ تر اسٹریٹجک مقابلے کی عینک سے دیکھتا ہے ۔ ٹرمپ کے دور میں امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ شروع ہوئی، جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو کشیدہ بنا دیا۔ چین کے نزدیک ٹرمپ کا پیس بورڈ دراصل عالمی نظام میں امریکی برتری کو برقرار رکھنے کی ایک کوشش ہے ، جو چین کے بڑھتے ہوئے معاشی اور سیاسی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے کی جا رہی ہے ۔
چینی قیادت اس بات پر زور دیتی ہے کہ عالمی مسائل کا حل کثیرالجہتی تعاون (Multilateralism) کے ذریعے ہونا چاہیے ، نہ کہ کسی ایک طاقت کے دباؤ سے ۔ اسی لیے چین اقوامِ متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو جیسے پلیٹ فارمز کو فروغ دیتا ہے ، تاکہ عالمی سطح پر ایک متوازن اور مشترکہ نظام قائم ہو سکے ۔ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ امن منصوبے ، خاص طور پر فلسطین اور اسرائیل کے معاملے میں، روس اور چین دونوں نے محتاط ردِعمل دیا۔ ان کا موقف تھا کہ کسی بھی پائیدار امن کے لیے فریقین کی رضامندی اور اقوامِ
متحدہ کی قراردادوں کا احترام ضروری ہے ۔ روس اور چین نے اس بات پر زور دیا کہ یکطرفہ فیصلے خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتے ہیں۔
روس اور چین دونوں اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے عالمی طاقت کے توازن میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے ۔ امریکہ کی جانب سے عالمی اداروں سے دوری نے روس اور چین کو موقع دیا کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو بڑھائیں۔ شام، افریقہ اور ایشیا کے مختلف خطوں میں روس اور چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی اسی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھی جاتی ہے ۔
ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں نے عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات ڈالے ۔ چین کے ساتھ تجارتی جنگ نے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ دنیا بھر کی منڈیوں کو متاثر کیا۔ روس نے اس صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے چین کے ساتھ معاشی تعاون کو مزید مضبوط کیا، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں۔ روس اور چین دونوں سفارت کاری کو ایک طویل المدتی کھیل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ٹرمپ کا انداز نسبتاً فوری نتائج پر مبنی تھا، جس میں طویل المدتی استحکام پر کم توجہ دی گئی۔ اسی لیے وہ امن پیس بورڈ کو ایک عارضی حکمتِ عملی سمجھتے ہیں، جو حکومت کی تبدیلی کے ساتھ بدل سکتی ہے ۔ٹرمپ کا امن پیس بورڈ روس اور چین کے لیے ایک ایسا تصور ہے جس میں مواقع بھی ہیں اور خدشات بھی۔ روس اسے ایک طرف امریکی دباؤ کی علامت سمجھتا ہے ، تو دوسری طرف دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے اپنے مفادات کے حصول کا ذریعہ بھی دیکھتا ہے ۔ چین اسے عالمی نظام میں طاقت کی کشمکش کے تناظر میں پرکھتا ہے اور کثیرالجہتی تعاون پر زور دیتا ہے ۔
آخرکار، عالمی امن کا مستقبل اسی صورت میں روشن ہو سکتا ہے جب بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے ساتھ ساتھ عالمی ذمہ داریوں کو بھی پیشِ نظر رکھیں۔ روس، چین اور امریکہ کے درمیان مکالمہ، تعاون اور باہمی احترام ہی ایک متوازن اور پائیدار عالمی نظام کی بنیاد بن سکتا ہے ۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: اپنے مفادات روس اور چین عالمی طاقت امریکہ کے کے نزدیک پیس بورڈ ٹرمپ کا کے ساتھ ٹرمپ کے ٹرمپ کی کو ایک کے لیے چین کے

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی