پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کامعاملہ پھر سلامتی کونسل میں اٹھادیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260202-01-25
اسلام آباد ( نمائندہ جسارت)پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کامعاملہ ایک بار پھر سلامتی کونسل میں اٹھادیا۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے کہابھارتی اقدام عالمی معاہدوں کے نظام کاامتحان ہے، آبی وسائل کا بین الاقوامی معاہدہ معطل کرناخطرناک مثال ہوگی،پانی کی تقسیم کامعاہدہ سیاست کی نذرہوا توعالمی اعتمادمتاثرہوگا۔انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ دوطرفہ نہیں،عالمی نوعیت کا معاملہ ہے،یک طرفہ اقدامات سے سرحدی اور تجارتی معاہدے بھی کمزور پڑسکتے ہیں،پانی کی تقسیم کے قائم شدہ انتظامات میں کسی بھی یک طرفہ رکاوٹ کے سنگین انسانی،ماحولیاتی اور امن و سلامتی سے متعلق اثرات ہونگے، خصوصاً پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے لیے جب لاکھوں انسانوں کو یک طرفہ فیصلوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔