پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کامعاملہ پھر سلامتی کونسل میں اٹھادیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260202-01-25
اسلام آباد ( نمائندہ جسارت)پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کامعاملہ ایک بار پھر سلامتی کونسل میں اٹھادیا۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے کہابھارتی اقدام عالمی معاہدوں کے نظام کاامتحان ہے، آبی وسائل کا بین الاقوامی معاہدہ معطل کرناخطرناک مثال ہوگی،پانی کی تقسیم کامعاہدہ سیاست کی نذرہوا توعالمی اعتمادمتاثرہوگا۔انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ دوطرفہ نہیں،عالمی نوعیت کا معاملہ ہے،یک طرفہ اقدامات سے سرحدی اور تجارتی معاہدے بھی کمزور پڑسکتے ہیں،پانی کی تقسیم کے قائم شدہ انتظامات میں کسی بھی یک طرفہ رکاوٹ کے سنگین انسانی،ماحولیاتی اور امن و سلامتی سے متعلق اثرات ہونگے، خصوصاً پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے لیے جب لاکھوں انسانوں کو یک طرفہ فیصلوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔