کوئٹہ میں موبائل انٹرنیٹ اور ریلوے سروس تیسرے روز بھی معطل، شہری اور مسافر مشکلات کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
کوئٹہ میں موبائل ڈیٹا انٹرنیٹ سروس تیسرے روز بھی معطل ہے جس سے شہریوں، کاروباری افراد اور طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
زرایع کے مطابق ہفتے کو معطل ہونے والی موبائل ڈیٹا سروس اب تک بحال نہیں ہو سکی، جس کی وجہ سے آن لائن سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
اسی دوران، کوئٹہ سے اندرونِ ملک اور چمن کے لیے ریلوے سروس بھی تیسرے روز معطل ہے۔ کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس بھی آج روانہ نہیں ہوئی۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ چمن کے لیے پیسنجر ٹرین ناگزیر وجوہات کی بنا پر آج بھی نہیں چلی۔
شہریوں نے اس معطلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری بحالی کی اپیل کی ہے تاکہ روزمرہ کے کام، کاروباری لین دین اور طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
فوٹو: آن لائنلاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔
تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔
منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔