بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے سینیٹائزیشن آپریشنز، 3 دن میں 177 دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں، جن کے دوران گزشتہ 3 دنوں میں 177 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز فتنۃ الہندوستان کے حملہ آور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔ گزشتہ شب تعاقبی آپریشنز کے دوران مزید 22 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ گذشتہ 3 روز کے دوران کیے جانے والے آپریشنز میں مجموعی طور پر 177 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔سیکیورٹی فورسز، بشمول انٹیلی جنس ایجنسیز اور پولیس، مختلف علاقوں میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مزید کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کے بعد کوئٹہ شہرمیں سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی جبکہ ریڈ زون کے راستے سیل کر دیے گئے۔پولیس کے مطابق ریڈ زون جانے والے راستوں میں کنٹینرز اور ٹرک کھڑے کر دیے گئے،امن وامان بحال کرنے کے لیے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں میں پولیس اور سیکیورٹی اہلکار ہائی الرٹ ہے، شہر بھر میں پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کا گشت جاری ہے۔محکمہ داخلہ کے مطابق بلوچستان بھر میں دفعہ 144 نافذ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔