وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پیر کے روز اسلام آباد میں عالمی بینک گروپ کے صدر اجے پال سنگھ بنگا سے ملاقات میں انہیں عالمی بینک کے صدر کی حیثیت سے پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر خوش آمدید کہا۔

اجے پال سنگھ بنگا 4 روزہ اعلیٰ سطحی دورے پر پاکستان میں ہیں، جس کے دوران وہ مختلف سرکاری اور ثقافتی مقامات کا دورہ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ورلڈ بینک پاکستان میں 10 سال میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کرے گا، وزیراعظم

ان کا دورہ یکم فروری سے شروع ہو کر 4 فروری تک جاری رہے گا۔ قیام کے دوران ان کی وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں شیڈول ہیں۔

ملاقاتوں میں معاشی اصلاحات، ترقیاتی تعاون اور علاقائی منصوبوں پر تبادلۂ خیال متوقع ہے۔

World Bank President Mr.

Ajay Banga, accompanied by Pakistan’s Finance Minister M. Aurangzeb, MNA @FaisalAminKhan, & KP Finance Advisor @MuzzammilAslam3, visited Jaulian Buddhist Monastery, praising @GovernmentKP & @KITEProjectDoT’s preservation efforts. #KPArchaeology 1/ pic.twitter.com/K3aoBPKIdx

— DG Archaeology & Museums KP (@KPDOAMOfficial) February 1, 2026

وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور عالمی بینک گروپ کے درمیان طویل المدتی شراکت داری کو اجاگر کرتے ہوئے ملکی ترقیاتی ترجیحات کی حمایت پر عالمی بینک کے کردار کو سراہا۔

انہوں نے عالمی بینک گروپ کے دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کی تعریف کرتے ہوئے اسے مشترکہ ترقیاتی اقدامات کا ایک مثالی نمونہ قرار دیا اور اجے بنگا کی قیادت میں عالمی بینک کے پاکستان کے لیے مؤثر ترقیاتی شراکت دار کے طور پر کردار کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو بھی سراہا۔

مزید پڑھیں: ورلڈ بینک نے پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے 70 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اپنی معاشی ترقی اور اصلاحات کے لیے عالمی بینک گروپ کی نمایاں معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پائیدار معاشی استحکام کے حصول کے لیے قومی ضروریات کے مطابق ایک جامع اور کثیرالجہتی اصلاحاتی پروگرام پر پوری طرح کاربند ہے۔

بیان کے مطابق وزیراعظم نے انفرااسٹرکچر، زرعی کاروبار، ڈیجیٹل ترقی، توانائی، انسانی وسائل، مالیاتی اصلاحات، روزگار کے مواقع کی تخلیق اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے فروغ میں عالمی بینک کی معاونت کو سراہا۔

مزید پڑھیں: ورلڈ بینک نے پاکستانی ٹیکس نظام کو ’بیہودہ‘ قرار دیکر اس میں اصلاحات کا مشورہ دے دیا

ملاقات میں وزیراعظم اور عالمی بینک کے صدر نے اس امر پر زور دیا کہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت طے شدہ ترجیحات پر تیز رفتار عملدرآمد اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ بروقت اور بڑے پیمانے پر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ اقدامات ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے اور ملکی ترقی کے وژن سے ہم آہنگی میں مددگار ثابت ہوں گے۔

وزیراعظم نے روزگار پر مبنی معاشی نمو کے فروغ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے جامع انتظامی اصلاحات کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

مزید پڑھیں:

اس موقع پر اجے پال سنگھ بنگا نے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان میں جاری اصلاحاتی اقدامات کی تعریف کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ون ورلڈ بینک گروپ‘ اقدام کے تحت تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کی کامیابی کے لیے ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون اور نجی وسائل کے مؤثر استعمال کی ضرورت ہے۔

ملاقات میں اس مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کے ترقیاتی پروگراموں کو مؤثر اور پائیدار انداز میں آگے بڑھایا جائے گا اور آئندہ دہائی کے دوران دونوں فریق قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اجے سنگھ بنگا اصلاحاتی ایجنڈے انتظامی اصلاحات پارٹنرشپ ترقیاتی شراکت دار سرمایہ کار شہباز شریف فریم ورک معاشی استحکام معاشی نمو ورلڈ بینک وزیر اعظم ون ورلڈ بینک گروپ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اجے سنگھ بنگا اصلاحاتی ایجنڈے انتظامی اصلاحات پارٹنرشپ ترقیاتی شراکت دار سرمایہ کار شہباز شریف معاشی استحکام ورلڈ بینک ون ورلڈ بینک گروپ عالمی بینک گروپ عالمی بینک کے پاکستان کے شہباز شریف سنگھ بنگا ورلڈ بینک کے لیے

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ