پنجاب حکومت نے بسنت کی مرکزی تقریب منسوخ کر دی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
سٹی42: پنجاب حکومت نے بسنت کے موقع پر مرکزی سرکاری تقریب منسوخ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ تقریب 6 فروری کو شاہی قلعہ لاہور کے دیوانِ عام میں منعقد ہونا تھی، جس میں حکومتی شخصیات اور غیر ملکی سفارتکاروں کی شرکت متوقع تھی۔
ذرائع کے مطابق امن و امان کی صورتحال اور ایس او پیز پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے میگا ایونٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم یہ تجویز زیر غور رہی کہ اعلیٰ شخصیات تہوار کا علامتی افتتاح کریں اور الگ سے بسنت منائیں۔
بھاٹی گیٹ مین ہول حادثہ: ماں بیٹی کی موت کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی
بسنت کی نگرانی کے لیے سیف سٹی ہیڈکوارٹر اور ڈی سی آفس میں کیمپ آفسز قائم کیے جائیں گے تاکہ سیکیورٹی اور انتظامی امور کی مانیٹرنگ کی جا سکے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ حکومتی سطح پر بسنت منانے کا کوئی باقاعدہ پلان فائنل نہیں تھا اور بسنت منانے کی اجازت صرف عوام کو دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر چھت بسنت کے تہوار کو منائے گی، حکومت کا کام صرف ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔
عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونے کی تاریخ کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔