یوکرین میں کان کنوں کی بس پر روسی ڈرون حملہ، 15 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
یوکرین کے جنوب مشرقی علاقے دنیپروپیٹرووسک میں روسی ڈرون حملے کے نتیجے میں کان کنوں کو لے جانے والی بس کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث 15 افراد ہلاک اور 7 زخمی ہو گئے۔
یوکرین کی توانائی کمپنی ڈی ٹی ای کے اور سرکاری حکام کے مطابق یہ حملہ اتوار کے روز پیش آیا۔ کمپنی نے بتایا کہ بس میں سوار تمام افراد کان سے ڈیوٹی مکمل کر کے واپس جا رہے تھے اور تمام ہلاک و زخمی افراد اسی کے ملازمین تھے۔
ڈی ٹی ای کے نے حملے کو کان پر کیا جانے والا ’’بڑے پیمانے کا دہشت گرد حملہ‘‘ قرار دیا ہے۔ یوکرین کے توانائی وزیر ڈینس شمیہال نے کہا کہ روسی افواج نے توانائی کے شعبے سے وابستہ کارکنوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ تیرینیوکا شہر میں پیش آیا۔ یوکرینی ایمرجنسی سروس کی جانب سے جاری فوٹیج میں تباہ شدہ بس کو سڑک سے ہٹا ہوا اور اس کے شیشے ٹوٹے ہوئے دکھایا گیا۔
اس سے قبل اتوار کے روز روسی حملوں میں زاپوریزیا شہر کے ایک زچہ و بچہ اسپتال اور رہائشی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم 9 افراد زخمی ہوئے۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا تھا کہ امریکا کی ثالثی میں یوکرین اور روس کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ ہفتے ہوگا۔ زیلنسکی کے مطابق روس نے توانائی کے ڈھانچے پر حملے روکنے کا کہا تھا، تاہم اس کے باوجود حملے جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
19 جولائی سے خیبرپختونخوا میں ہونے والی شدید بارشوں اور فلیش فلڈ کے نتیجے میں مختلف حادثات میں اب تک 28 افراد جاں بحق جبکہ 29 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 10 مرد، 3 خواتین اور 15 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 13 مرد، 9 خواتین اور 7 بچے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں 19 سے 23 جولائی تک شدید بارشوں کا الرٹ، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور اربن فلڈنگ کا خدشہ
زیادہ تر حادثات گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے یا سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے باعث پیش آئے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارشوں اور فیلش فلڈ سے مجموعی طور پر 47 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 37 گھروں کو جزوی جبکہ 10 گھر مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔
Heavy monsoon rains triggered dangerous flash floods in Khyber District, KP, sweeping away a vehicle. Thanks to the quick action of local residents, the driver was rescued safely.#FlashFlood #Khyber #Pakistan #Monsoon2026 #ClimateAction #StaySafe pic.twitter.com/QoeeY8x1if
— MH ClimateActions (@mhclimateaction) July 23, 2026
یہ حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، اپر و لوئر چترال، اپر و لوئر دیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، اپر کوہستان، ٹانک، تورغر، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان سمیت مختلف اضلاع میں پیش آئے۔
ترجمان کے مطابق پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے باہمی رابطے میں ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں موسلادھار بارشوں سے تباہی، 12 افراد جاں بحق، 18 زخمی
پی ڈی ایم اے نے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین تک امدادی سامان کی فوری فراہمی اور امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور موسمی صورتحال کے حوالے سے جاری سرکاری الرٹس اور ایڈوائزریز پر سختی سے عمل کریں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ادارے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع، موسمی صورتحال سے آگاہی یا دیگر معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمرجنسی آپریشن سینٹر بارش پی ڈی ایم اے حساس خیبر پختونخوا ریسکیو 1122 سیاحتی مقامات سیلاب سیلابی ریلوں فعال فیلش فلڈ موسمی صورتحال