ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان کا بائیکاٹ کا فیصلہ، بی سی سی آئی کا آئی سی سی کی حمایت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
بی سی سی آئی نے پاکستان کے ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ سے دستبرداری پر آئی سی سی کی حمایت کردی۔
گزشتہ روز انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے اسپورٹس مین اسپرٹ سے متعلق ایک اہم بیان جاری کیا گیا، جس میں کھیل کے آداب پر زور دیا گیا۔
اس حوالے سے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے نائب صدر راجیو شکلا نے لوک سبھا میں دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ بورڈ آئی سی سی کے مؤقف سے مکمل اتفاق کرتا ہے، تاہم اس معاملے پر کوئی حتمی ردِعمل اس وقت تک نہیں دیا جائے گا جب تک آئی سی سی سے براہِ راست بات چیت نہیں ہو جاتی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا فی الحال آئی سی سی کو باضابطہ خط لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
کرک انفو کے مطابق پی سی بی آئی سی سی کے اتوار کی شب جاری بیان کو اس بات کا ثبوت سمجھتا ہے کہ عالمی ادارہ پاکستان کے مؤقف کو سمجھتا ہے، اس لیے مزید وضاحت کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔