بلوچستان، دہشتگردوں کیخلاف 3 روزہ آپریشنز میں 177 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز بلوچستان میں فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے حملہ آور دہشتگردوں کے خلاف سینیٹائزیشن آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ رات تعاقبی آپریشنز کے دوران مزید 22 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین روز کے دوران کیے جانے والے مختلف آپریشنز میں مجموعی طور پر کم از کم 177 دہشتگردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز، انٹیلی جنس ایجنسیز اور پولیس مشترکہ طور پر مختلف علاقوں میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر رہی ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو مزید نقصانات اور ہلاکتوں کی بھی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔