گینگ آف گٹکا ماوا عزیزآباد کیخلاف پولیس کا کارروائی سے گریز، رینجرز کا چھاپہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
سندھ رینجرز نے چھاپہ دوئم نمبر گٹکا ماوا ڈیلر عمیر عرف ببلو کے کارخانے پر مارا
لاکھوں کی چھالیہ، مشینیں اور دیگر سامان پکڑا گیا، اول نمبر ڈیلر طاہر عرف بوبی محفوظ
(رپورٹ؍ ایم جے کے)ڈسٹرکٹ سینٹرل’ گینگ آف گٹکا ماوا عزیزآباد کے خلاف پولیس کا کارروائی سے گریز’ رینجرز کا چھاپہ، رینجرز نے چھاپہ دوئم نمبر گٹکا ماوا ڈیلر عمیر عرف ببلو کے کارخانے پر مارا، لاکھوں کی
چھالیہ، مشینیں اور دیگر سامان پکڑا گیا، اول نمبر گٹکا ماوا ڈیلر طاہر عرف بوبی اب بھی محفوظ۔ نشاندہی، تصویروں اور ویڈیو کے ساتھ روزنامہ جرات اخبار اینڈ ڈیجیٹل پر مسلسل خبر چلنے کے باوجود تھانہ عزیزآباد کا گینگ آف عزیزآباد کا گٹکا ماوا کے خلاف کارروائی سے گریز پر دوئم نمبر ڈیلر عمیر عرف ببلو کے کارخانے پر رینجرز کا چھاپہ، علاقہ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز 61 ونگ رینجرز کے انسپیکٹر اسماعیل نے الطاف عرف حاجی کی نشاندہی پر عزیزآباد کے دوئم نمبر گٹکا ماوا ڈیلر عمیر عرف ببلو کے کارخانے میں دن کے اوقات میں چھاپہ مارا چھاپے کے وقت عمیر عرف ببلو گٹکا ماوا کارخانے میں موجود نہیں تھا پر کارخانے میں کام کرنے والے اس کے تین سے چار کارندے، 17 کے قریب بوریوں میں بھری چھالیہ جس کی مالیت 18 لاکھ روپے، گٹکا ماوا بنانے والی تمام مشینیں اور دیگر سامان پکڑا گیا، رینجرز کے اس چھاپے سے علاقہ مکین نے سکون کا سانس لیا اور رینجرز کی کارروائی کو سراہا، رینجرز کے چھاپے کے بعد عمیر عرف ببلو کے علاقہ عزیزآباد میں تمام گٹکا ماوا کے کیبن فلحال بند ہیں، علاقہ مکین کا کہنا ہے کہ جس طرح رینجرز نے عمیر عرف ببلو کے کارخانے پر چھاپہ مار کر گٹکا ماوا کی تمام اشیاء قبضے میں لیں اسی طرح عزیزآباد کے اول نمبر گٹکا ماوا ڈیلر طاہر عرف بوبی کے کارخانے پر بھی کارروائی کی جا? تاکہ علاقہ عزیزآباد سے گٹکا ماوا فروشوں اور انکے بنائے جانے والے زہر نما گٹکا ماوا جڑ سے ختم ہو جائے، علاقہ مکین نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اول نمبر گٹکا ماوا ڈیلر طاہر عرف بوبی اور اس کے خاص کارندے آصف نیاپو، نعمان بندانی، نعیم فرکی اور دوئم نمبر گٹکا ماوا ڈیلر عمیر عرف ببلو اس کا خاص کارندہ جنید کو فلفور پکڑا جائے کیونکہ اگر یہ لوگ نہیں پکڑے گئے تو یہ سماج دشمن عناصر عزیزآباد میں اپنے کارخانے اور لا تعداد کیبن چلاتے رہیں گے اور بلا خوف گٹکا ماوا کی سپلائی اور فروخت کرتے رہیں گے، کیونکہ گٹکا ماوا کی سپلائی اور فروخت کی مد میں یہ دونوں سماج دشمن عناصر تھانہ عزیزآباد کے انٹری پر آ? ایس ایچ او شاہد تاج کے دو خاص بیٹروں کو، ہیڈ محرر ارشد اور ہیڈ کانسٹیبل سہراب کے ہاتھوں ہفتہ 3، 3 لاکھوں روپے دے رہے ہیں، بتاتے چلیں کہ کچھ روز قبل ایس ایس پی سینٹرل ذیشان شفیق صدیقی بھی مینجمنٹ کورس پر روانہ کر دیے گ? اور انکی جگہ اضافی چارج ڈسٹرکٹ سینٹرل کا ایس ایس پی ویسٹ طارق الہی مستہوئی کو دیا بعد ازاں ایس ایس پی سینٹرل کا چارج ڈاکڑ عمران نیازی کو دے دیا گیا اب دیکھنا یہ ہے کہ ایس ایس پی سینٹرل ڈاکڑ عمران نیازی سینٹرل میں منشیات و گٹکا ماوا مافیا کے خلاف کارروائی کرتے بھی ہیں یا پھر خاموشی اختیار، علاقہ مکین کا کہنا ہے کہ جس طرح آئی جی سندھ نے کرپٹ ایس ایچ او تھانہ عزیزآباد وقار قیصر کو عزیزآباد تھانے سے معطل کیا اسی طرح تھانہ عزیزآباد کرپٹ ہیڈ محرر ارشد، کرپٹ ہیڈ کانسٹیبل سہراب اور انٹری پر آئے ایس ایچ او شاہد تاج اس کے دو خاص بیٹروں اور عزیزآباد کی حدود میں بڑے گٹکا ماوا ڈیلر طاہر عرف بوبی، عمیر عرف ببلو، نعیم فرکی، آصف نیاپو، نعمان بندانی، جنید اور دیگر کے خلاف بھرپور کارروائی کرکے علاقہ عزیزآباد سے ان سماج دشمن عناصروں کے کارخانوں میں بننے والے زہر نما گٹکا ماوا اور ان کی سپلائی اور فروخت کو لا تعداد کیبنوں پر سے جڑ سے ختم کروایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: عمیر عرف ببلو کے کارخانے پر تھانہ عزیزا باد عزیزا باد کے علاقہ مکین ایس ایس پی اور دیگر اول نمبر کے خلاف
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔