سندھ بلڈنگ کا انسپکٹر کورنگی کے علاقے میںایک مافیا اور ڈان کا روپ دھار گیا
اللہ والا ٹاؤن میں ہنگامی اخراج سے خالی سو سے زائد عمارتیں غیر قانونی تعمیر

سندھ بلڈنگ کا انسپکٹر کورنگی کے علاقے میںایک مافیا اور ڈان کا روپ دھار گیا۔ اطلاعات کے مطابق بلڈنگ انسپکٹر کاشف گزشتہ بیس برسوں سے کورنگی میں تعینات تھا اور کوئی بھی سسٹم کاشف کو ہلانے میں ناکام رہا۔ مگر گزشتہ دنوں کاشف نامی انسپکٹر کو معطل کردیا گیا۔ باخبر ذرائع کے مطابق کاشف کو معطل کیے جانے کے باوجود کورنگی کا سسٹم تاحال اُن ہی کے قابو میں ہے، اور وہ کورنگی میں ہزاروںعمارتوں کی غیر قانونی تعمیرات کے براہِ راست ذمہ دار ہیں۔ موصوف کراچی میں مختلف ایسی مافیاؤں کی سرپرستی کرتے ہیں جن پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سنگین الزامات ہیں۔ اطلاعات کے مطابق موصوف تاحال ایم کیو ایم لندن گروپ کے مقامی ہرکاروںکو بھی مختلف طرح سے’ امداد‘ پہنچانے کے مبینہ ذمہ دار قرار دیے جاتے ہیں۔ اپنی’ دہشت ‘ کے اسی تاثر میں وہ کورنگی کے اندر اپنی معطلی کے باوجود غیر قانونی عمارتوں کی مسلسل سرپرستی کر رہے ہیں۔ جرأت کے ایک تفصیلی سروے میں اللہ والا ٹاؤن میں سو سے زائد عمارتیں غیر قانونی تعمیر ہو رہی ہیں جس میں سے کسی میں بھی فائر سسٹم یا ہنگامی اخراج کا کوئی راستہ موجود نہیں ہے، مگر ان عمارتوں کی تعمیرات کو رکوانے کا کوئی بندوبست نہیں ہو رہا ۔جرأت سروے کے دوران حاصل کی گئی تصاویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اللہ والا ٹاؤن سیکٹر 31Bکے دو مشترکہ پلاٹوں 1363+ 1490 پر علی آرکیڈ نامی کمرشل پلازے کی تعمیر بغیر کسی ہنگامی اخراج کے راستے کے تکمیل کے مراحل میں داخل ہو چکی ہے ،ماہرینِ شہری امور اور فائر سیفٹی کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ فائر فائٹنگ سسٹم، ایمرجنسی اخراج، اور آگ سے بچاؤ کے دیگر بنیادی ڈھانچے کے بغیر یہ عمارت وقت سے پہلے خطرے کی گھنٹی بجارہی ہے۔ کورنگی کا علاقہ پہلے ہی گنجان آبادی، تنگ گلیوں اور انفراسٹرکچر کی کمی کا شکار ہے ۔ ایسی صورتحال میں کسی بھی بلڈنگ میں آگ لگنے کی صورت میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔شہریوں اور سماجی کارکنوں کا الزام ہے کہ ایس بی سی اے کا مکمل ادارہ اس سنگین مسئلے پر خاموش تماشائی بن کر بیٹھا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ محض ایک انسپکٹر کی ملی بھگت پورے ضلع میں قوانین کی دھجیاں نہیں اڑائی جا سکتیں، بلکہ ادارے کے اعلیٰ افسران کی ناکہ بندی یا لاپروائی بھی اس کھیل میں برابر کی شریک ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان تمام غیر قانونی بلند عمارتوں کی نشاندہی کر کے ان پر کارروائی کی جائے ، خطرے کے شکار شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے اور مبینہ طور پر ملوث افسر کاشف احمد سمیت تمام ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے انھیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ترجمان سے اس بارے میں موقف لینے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کہا کہ معاملے کا نوٹس لے لیا گیا ہے اور اندرونی تفتیش جاری ہے ۔”تاہم، شہری اسے ایک رسمی بیان سمجھ رہے ہیں، جبکہ ان کی زندگیاں روز بروز بڑھتے ہوئے خطرے کا شکار ہیں۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے جاری ہونے والے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کے ایک عمومی بیان کے مطابق:”حفاظتی معیارات کی پاسداری، معائنے کا مقصد تیاری بڑھانا، خطرات کم کرنا اور سندھ بھر میں عوامی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ "تاہم، کورنگی کے عوام اس بیانیے اور زمینی حقیقت کے درمیان واضح خلیج پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: سندھ بلڈنگ کورنگی کے کے مطابق

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا