غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، 32 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
بچے اور خواتین شامل،رہائشی عمارتوں، خیموں، پناہ گاہوں ، پولیس اسٹیشن نشانہ بن گیا
خواتین پولیس اہلکار بھی شامل،اسرائیل اور حماس میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ،ذرائع
اسرائیلی فضائی حملوں میں ہفتے کے روز غزہ میں کم از کم 32 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی بتائی جا رہی ہے۔فلسطینی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق یہ حملے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافہ صبح کے وقت سے جاری حملوں کے بعد ہوا۔ سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ رہائشی عمارتوں، خیموں، پناہ گاہوں اور ایک پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں انسانی المیہ پیدا ہوا۔غزہ شہر کے رمال علاقے میں ایک رہائشی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق کئی افراد ملبے تلے دب گئے۔ ایک متاثرہ خاندان کے رکن نے بتایا کہ تین بچیاں نیند کی حالت میں جاں بحق ہو گئیں اور ان کی لاشیں سڑک پر ملی ہیں۔غزہ کے شیخ رضوان علاقے میں پولیس اسٹیشن پر ہونے والے حملے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں خواتین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق حملے کے وقت عمارت میں عام شہری بھی موجود تھے۔ادھر جنوبی غزہ کے علاقے المواسی میں قائم ایک پناہ گاہ پر بھی اسرائیلی حملہ کیا گیا، جہاں ہزاروں بے گھر فلسطینی خیموں میں رہائش پذیر ہیں۔ اس حملے میں جانی نقصان کی حتمی تعداد تاحال سامنے نہیں آ سکی۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملے جمعے کے روز رفح میں ایک مبینہ واقعے کے ردعمل میں کیے گئے، جسے اس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اسرائیل کے مطابق حملوں میں حماس اور اسلامی جہاد سے وابستہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔دوسری جانب حماس نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں سنگین جنگی جرم قرار دیا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 509 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اسرائیل نے رفح بارڈر کو محدود آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے، جو جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا اہم حصہ ہے۔ مصر نے اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے تحمل کی اپیل کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔
سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش
فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار
ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیےاس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔
مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا
اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔
گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیںجاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔
جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا
اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر