بیجنگ: چین میں ایک 32 سالہ شخص حد سے زیادہ کام کرنے کے باعث اچانک انتقال کر گیا، جبکہ موت کے آٹھ گھنٹے بعد بھی اسے دفتر کی جانب سے کام سے متعلق پیغام موصول ہوا۔ یہ واقعہ چینی سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کا باعث بن گیا ہے۔

گاؤ گوانگ ہوئی نامی شخص نومبر 2025 میں انتقال کر گیا۔ ان کی اہلیہ لی کے مطابق انتقال کے روز گاؤ نے صبح جلدی کام شروع کیا، حالانکہ وہ خود کو بیمار محسوس کر رہے تھے۔ کچھ ہی دیر بعد ان کی حالت بگڑ گئی اور اسپتال لے جاتے ہوئے وہ بے ہوش ہو گئے۔

اسپتال نے دوپہر کو تصدیق کی کہ گاؤ دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے، جس کی وجہ ڈاکٹروں نے مسلسل اور حد سے زیادہ کام کو قرار دیا۔ ان کی اہلیہ کے مطابق گاؤ نے اپنی موت کے دن پانچ مرتبہ کمپنی کے ورک سسٹم میں لاگ ان کیا تھا اور انہیں ایک نئے ورک چیٹ گروپ میں بھی شامل کیا گیا تھا۔

لی نے بتایا کہ گاؤ کو ان کی موت کے آٹھ گھنٹے بعد بھی ایک فوری کام کا پیغام موصول ہوا۔ ان کے مطابق گاؤ 2021 میں ترقی کے بعد روزانہ رات ساڑھے نو بجے کے بعد گھر آتے تھے اور شاذ و نادر ہی چھٹی لیتے تھے۔

اہلیہ کا کہنا ہے کہ گاؤ اکثر کہتے تھے کہ کام بہت زیادہ ہے اور ٹیم کو ان کی ضرورت ہے، اسی لیے وہ جلد دفتر سے نکلنے یا چھٹی لینے سے انکار کر دیتے تھے۔ لی کے مطابق اگر وقت واپس آ سکتا تو وہ اپنے شوہر کو ملازمت چھوڑنے پر مجبور کر دیتیں۔

گاؤ کا تعلق صوبہ ہینان سے تھا اور وہ بچپن میں اپنے والدین کے ساتھ گوانگزو منتقل ہوئے تھے۔ تعلیم کے دوران وہ مالی مشکلات کے باعث جزوقتی ملازمتیں کرتے رہے۔ انہوں نے اپنے تعلیمی ساتھی سے شادی کی، تاہم ان کے کوئی بچے نہیں تھے۔

گاؤ کی ڈائری میں 16 سال کی عمر میں لکھی گئی تحریر بھی سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے سخت محنت کو کامیابی کا راستہ قرار دیا تھا۔

چین میں کئی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں طویل اوقات کار ایک عام بات ہے، جہاں ملازمین سے ہفتے میں چھ دن، روزانہ 12 گھنٹے کام لیا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے چینی دفتری کلچر پر تنقید کرتے ہوئے اصلاحات اور بہتر ورک لائف بیلنس کا مطالبہ کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انتقال کر کے مطابق

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ