وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر سوات سے تعلق رکھنے والی 14 سالہ تائیکوانڈو اسٹار عائشہ ایاز کو تین لاکھ روپے کا انعام دے دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب کے صوبائی وزیر کھیل فیصل ایوب نے اسپورٹس بورڈ پنجاب کی طرف سے عائشہ ایاز کو چیک پیش کیا۔

صوبائی وزیر کھیل نے عائشہ ایاز کو ذاتی طور پر ایک لاکھ روپے کا انعام بھی دیا۔

سوات کی رہائشی عائشہ ایاز پاکستان کی سب سے کم عمر بین الاقوامی تائیکوانڈو ایتھلیٹ ہیں۔ انہوں نے صرف 14 سال کی عمر میں 11 بین الاقوامی میڈلز جیتے ہیں۔

عائشہ ایاز عالمی مقابلوں میں 150 سے زائد میڈلز جیتنے والی واحد پاکستانی کھلاڑی ہیں۔

عائشہ ایاز نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور صوبائی وزیر کھیل کا شکریہ ادا کیا۔

صوبائی وزیر کھیل نے عائشہ ایاز کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عائشہ ایاز مستقبل میں اولمپکس میں پاکستان کا نام روشن کریں گی۔

صوبائی وزیر کھیل نے کہا کہ عائشہ ایاز سوات کی نہیں بلکہ پاکستان کی بیٹی ہیں۔ ان جیسی بچیاں ہم سب کا فخر ہیں۔

فیصل ایوب کھوکھر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نوجوان ایتھلیٹس کی حوصلہ افزائی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عائشہ ایاز جیسے باصلاحیت کھلاڑیوں کی سرپرستی حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔

اس موقع پر وائس چیئرمین ملک سلیمان اور سیکرٹری اسپورٹس محمد علی بھی موجود تھے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: صوبائی وزیر کھیل عائشہ ایاز کو وزیر اعلی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم