کسی کا باپ بھی بلوچستان کو پاکستان سے الگ نہیں کر سکتا، نوابزادہ جمال رئیسانی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ کسی کا باپ بھی بلوچستان کو پاکستان سے الگ نہیں کر سکتا۔
’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے کوئی حقوق کی جنگ نہیں لڑ رہے، یہ صرف اور صرف فنڈنگ کی جنگ ہے، ان لوگوں کا بلوچستان کے عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ کوئی حقوق کی جنگ نہیں لڑ رہے یہ صرف اور صرف فنڈنگ کی جنگ ہے یہ لوگ اپنے ہی لوگوں کو استعمال کررہے ہیں ان کا بلوچستان کے لوگوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ، انڈیا کو یہی پیغام ہے کہ بلوچستان کسی کے ہاتھ کا کھلونا نہیں بننے والا بلوچستان پاکستانی عوام کا ہے کسی کاباپ بھی اسے پاکستان سے… pic.
— WE News (@WENewsPk) February 2, 2026
جمال رئیسانی نے کہاکہ انڈیا کو یہی پیغام ہے کہ بلوچستان کسی کے ہاتھ کا کھلونا نہیں بننے والا، بلوچستان پاکستانی عوام کا ہے، کسی کا باپ بھی اسے پاکستان سے الگ نہیں کرسکتا۔
واضح رہے بلوچستان میں ہونے والی حالیہ دہشتگردی میں سیکیورٹی فورسز نے 177 دہشتگردوں کو ہلاک کیا ہے، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 17 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے ہیں۔
دہشتگردی کی اس کارروائی کے بعد ملک بھر میں غم و غصے پایا جاتا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے آج قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دشمن اپنی پراکسیز کے ذریعے پاکستان کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت نے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں چمن بارڈر پر ایک بڑا احتجاج بھی ہوا۔ احتجاج کرنے والوں نے مطالبہ کیاکہ نیشنلسٹ تحریکوں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کے جغرافیائی حالات کی وجہ سے وہاں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
وزیر دفاع نے مزید کہاکہ بی ایل اے کے نام پر جرائم پیشہ عناصر ان اسمگلرز کو تحفظ فراہم کررہے ہیں اور بلوچستان میں قبائلی عمائدین، بیوروکریسی اور علیحدگی پسند تحریکوں کے پیچھے ایک گٹھ جوڑ موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان دہشتگردی رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان دہشتگردی رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز جمال رئیسانی پاکستان سے کی جنگ کسی کا
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔