خیبر پختونخوا کی حکومت نے لڑکیوں کے کالجز کے لیے نئے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز(ایس او پیز) جاری کر دیے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا حکومت کا بچوں کی کردار سازی کے لیے کریکٹر ایجوکیشن کے نئے نصاب کا باضابطہ اجرا

میڈیا رپورٹس کے مطابق خیبر پختوخوا ڈائریکٹوریٹ آف ہائر ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ نئے ایس او پیز کے مطابق کسی بھی قسم کے پروگرام یا تقریب منعقد کرنے سے قبل ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن سے اجازت حاصل کرنا لازمی ہو گی۔

ہدایات میں موسیقی، رقص، ماڈلنگ یا اسی نوعیت کی کوئی بھی پرفارمنس مکمل طور پر ممنوع قرار دی گئی ہے۔

کالج کے اوقات اور تقریبات کے دوران موبائل فون کے استعمال پر بھی پابندی ہوگی۔

مزید یہ کہ تمام طالبات کو کسی بھی تقریب میں شرکت کے دوران یونیفارم پہننا لازمی ہوگا اور تقریبات کی ویڈیوز یا تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر نہیں کی جا سکیں گی۔

یہ اقدامات صوبے میں طویل عرصے سے جاری تعلیمی بحران کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔ صوبے اپر کوہستان اور دبیر جیسے دور دراز علاقوں میں کئی اضلاع میں سیلاب سے قبل ہی ثقافتی پابندیوں، قریبی تعلیمی اداروں کی کمی اور کمزور تعلیمی ڈھانچے کی وجہ سے لڑکیاں ابتدائی کلاسوں کے بعد اسکول چھوڑ دیتی تھیں۔

مزید پڑھیے:  سپریم کورٹ خیبرپختونخوا اسکولوں کی خستہ حالی پر برہم، حکومت کو 6 ماہ کی مہلت

اگست 2025 کے شدید سیلاب نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا۔ اس وقت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں تقریباً 49 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر تھے جن میں سے تقریباً 29 لاکھ لڑکیاں شامل تھیں۔ سیلاب کی وجہ سے سینکڑوں اسکولوں کو نقصان پہنچا جس سے بچوں کی تعلیم میں خلل پڑا۔

سیلاب سے تباہ شدہ اسکولوں کی تعمیر نو کے علاوہ، بنیادی سہولیات جیسے باؤنڈری والز، صفائی اور محفوظ پینے کے پانی کی کمی نے لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹیں مزید بڑھا دی ہیں۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں 24 لاکھ بچوں کو اسکول لانے کے لیے کیا پلان ترتیب دیا جارہا ہے؟

تعلیمی کارکنان اور ماہرین نے بار بار انتباہ دیا ہے کہ قدرتی آفات اور طویل مدتی نظامی مسائل نے صنفی فرق کو مزید گہرا کر دیا ہے اور انہوں نے زور دیا ہے کہ تعمیر نو اور صنفی حساس پالیسیوں کو لڑکیوں کی تعلیم کو برقرار رکھنے کی کوششوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا کے لیے

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی