data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:آسٹریلیا ایوارڈز پروگرام کے تحت پاکستان کے لیے مکمل فنڈڈ ماسٹرز اسکالرشپس کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس کے تحت پاکستانی شہریوں کو آسٹریلیا کی نامور جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا، یہ اسکالرشپس 2027 میں شروع ہونے والے تعلیمی پروگرامز کے لیے دی جائیں گی، جن کا مقصد تعلیم کے ذریعے پاکستان میں پائیدار ترقی اور قیادت کی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔

تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا ایوارڈز پروگرام آسٹریلیا کی بین الاقوامی ترقیاتی معاونت (Australian Development Assistance) کا ایک اہم حصہ ہے، جس کا ہدف پاکستان اور خطے کے لیے ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی تشکیل ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے طویل المدتی انسانی استعداد کار میں اضافہ، پیشہ ورانہ مہارتوں کی بہتری، قیادت کی تربیت اور آسٹریلیا و پاکستان کے درمیان مضبوط عوامی روابط قائم کیے جاتے ہیں۔

اعلامیے کے مطابق اسکالرشپس کے لیے امیدواروں کا انتخاب سخت میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا، جس میں تعلیمی قابلیت، متعلقہ پیشہ ورانہ تجربہ، قیادت کی صلاحیتیں اور پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی میں کردار ادا کرنے کی اہلیت کو مدنظر رکھا جائے گا۔ پروگرام میں خواتین، معذور افراد اور دیگر محروم و پسماندہ طبقات کو خصوصی طور پر درخواست دینے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ تعلیم کے مواقع میں برابری کو فروغ دیا جا سکے۔

پاکستان کے لیے ترجیحی شعبوں میں ماحولیاتی تبدیلی، خواتین اور بچیوں کا بااختیار بنانا، زراعت اور آبی وسائل کا تحفظ، انفراسٹرکچر کی ترقی اور جامع معاشی ترقی شامل ہیں۔ یہ ترجیحی شعبے دونوں ممالک کی حکومتیں باہمی مشاورت سے طے کرتی ہیں تاکہ حاصل کی جانے والی تعلیم پاکستان کی ضروریات اور قومی ترجیحات سے ہم آہنگ ہو۔

اسکالرشپس صرف ماسٹرز ڈگری پروگرامز کے لیے ہوں گی اور وہی امیدوار اہل ہوں گے جن کے پاس پہلے سے مساوی ماسٹرز ڈگری موجود نہ ہو۔ اہلیت کے لیے درخواست دہندہ کا پاکستانی شہری ہونا، پاکستان میں مستقل طور پر مقیم ہونا، کم از کم 16 سالہ تعلیم مکمل ہونا اور متعلقہ شعبے میں کم از کم پانچ سال کا پیشہ ورانہ تجربہ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عمر کی بالائی حد 45 سال مقرر کی گئی ہے۔

منتخب امیدواروں کو مکمل ٹیوشن فیس، آسٹریلیا آنے اور واپس جانے کا ہوائی ٹکٹ، رہائشی اخراجات، ہیلتھ انشورنس، تعارفی تعلیمی پروگرام اور تحقیقی فیلڈ ورک کے لیے الاؤنس فراہم کیا جائے گا۔ اسکالرشپ مکمل کرنے کے بعد امیدواروں پر لازم ہوگا کہ وہ کم از کم دو سال پاکستان واپس آ کر اپنی مہارتیں ملک کی خدمت میں استعمال کریں۔

اعلامیے کے مطابق 2027 کے تعلیمی سیشن کے لیے درخواستوں کا آغاز یکم فروری 2026 سے ہو چکا ہے جبکہ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 اپریل 2026 مقرر کی گئی ہے۔ درخواستیں صرف OASIS آن لائن پورٹل کے ذریعے جمع کرائی جا سکیں گی۔ آسٹریلیا ایوارڈز اسکالرشپس کو پاکستانی پیشہ ور افراد کے لیے بین الاقوامی معیار کی تعلیم اور قیادت کے مواقع فراہم کرنے والا ایک جامع اور باوقار پروگرام قرار دیا جا رہا ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جائے گا کے لیے

پڑھیں:

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔

قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔

ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،

وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی