آسٹریلیا ایوارڈز پروگرام کے تحت پاکستانی شہریوں کیلیے مکمل فنڈڈ ماسٹرز اسکالرشپس کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:آسٹریلیا ایوارڈز پروگرام کے تحت پاکستان کے لیے مکمل فنڈڈ ماسٹرز اسکالرشپس کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس کے تحت پاکستانی شہریوں کو آسٹریلیا کی نامور جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا، یہ اسکالرشپس 2027 میں شروع ہونے والے تعلیمی پروگرامز کے لیے دی جائیں گی، جن کا مقصد تعلیم کے ذریعے پاکستان میں پائیدار ترقی اور قیادت کی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔
تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا ایوارڈز پروگرام آسٹریلیا کی بین الاقوامی ترقیاتی معاونت (Australian Development Assistance) کا ایک اہم حصہ ہے، جس کا ہدف پاکستان اور خطے کے لیے ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی تشکیل ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے طویل المدتی انسانی استعداد کار میں اضافہ، پیشہ ورانہ مہارتوں کی بہتری، قیادت کی تربیت اور آسٹریلیا و پاکستان کے درمیان مضبوط عوامی روابط قائم کیے جاتے ہیں۔
اعلامیے کے مطابق اسکالرشپس کے لیے امیدواروں کا انتخاب سخت میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا، جس میں تعلیمی قابلیت، متعلقہ پیشہ ورانہ تجربہ، قیادت کی صلاحیتیں اور پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی میں کردار ادا کرنے کی اہلیت کو مدنظر رکھا جائے گا۔ پروگرام میں خواتین، معذور افراد اور دیگر محروم و پسماندہ طبقات کو خصوصی طور پر درخواست دینے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ تعلیم کے مواقع میں برابری کو فروغ دیا جا سکے۔
پاکستان کے لیے ترجیحی شعبوں میں ماحولیاتی تبدیلی، خواتین اور بچیوں کا بااختیار بنانا، زراعت اور آبی وسائل کا تحفظ، انفراسٹرکچر کی ترقی اور جامع معاشی ترقی شامل ہیں۔ یہ ترجیحی شعبے دونوں ممالک کی حکومتیں باہمی مشاورت سے طے کرتی ہیں تاکہ حاصل کی جانے والی تعلیم پاکستان کی ضروریات اور قومی ترجیحات سے ہم آہنگ ہو۔
اسکالرشپس صرف ماسٹرز ڈگری پروگرامز کے لیے ہوں گی اور وہی امیدوار اہل ہوں گے جن کے پاس پہلے سے مساوی ماسٹرز ڈگری موجود نہ ہو۔ اہلیت کے لیے درخواست دہندہ کا پاکستانی شہری ہونا، پاکستان میں مستقل طور پر مقیم ہونا، کم از کم 16 سالہ تعلیم مکمل ہونا اور متعلقہ شعبے میں کم از کم پانچ سال کا پیشہ ورانہ تجربہ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عمر کی بالائی حد 45 سال مقرر کی گئی ہے۔
منتخب امیدواروں کو مکمل ٹیوشن فیس، آسٹریلیا آنے اور واپس جانے کا ہوائی ٹکٹ، رہائشی اخراجات، ہیلتھ انشورنس، تعارفی تعلیمی پروگرام اور تحقیقی فیلڈ ورک کے لیے الاؤنس فراہم کیا جائے گا۔ اسکالرشپ مکمل کرنے کے بعد امیدواروں پر لازم ہوگا کہ وہ کم از کم دو سال پاکستان واپس آ کر اپنی مہارتیں ملک کی خدمت میں استعمال کریں۔
اعلامیے کے مطابق 2027 کے تعلیمی سیشن کے لیے درخواستوں کا آغاز یکم فروری 2026 سے ہو چکا ہے جبکہ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 اپریل 2026 مقرر کی گئی ہے۔ درخواستیں صرف OASIS آن لائن پورٹل کے ذریعے جمع کرائی جا سکیں گی۔ آسٹریلیا ایوارڈز اسکالرشپس کو پاکستانی پیشہ ور افراد کے لیے بین الاقوامی معیار کی تعلیم اور قیادت کے مواقع فراہم کرنے والا ایک جامع اور باوقار پروگرام قرار دیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔