بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہے، خواجہ آصف WhatsAppFacebookTwitter 0 2 February, 2026 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس) وزیر دفاع خواجہ آصف نے حالیہ دہشت گردی پر کہا ہے کہ بلوچستان کے جغرافیے کی وجہ سے وہاں پر بڑے پیمانے پر فوجی اہل کاروں کی تعیناتی کی ضرورت ہے۔

قومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے سختی کی، مافیا کے لوگ ایران سے 40 روپے لیٹر تیل خرید کر 200 روپے میں بیچ رہے تھے اور تیل کی اسمگلنگ سے یومیہ چار ارب روپے کمائے تھے، یہ دھندے بند ہوگئے، چمن بارڈر پر ایک بہت بڑا احتجاج بھی ہوا، لوگ کہتے ہیں نیشنلسٹ تحریکوں کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کی سیاسی نہ قوم پرست شناخت ہے، بنیادی طور پر کاروباری نقصانات کے ازالے کیلئے تحریک چلائی جا رہی ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ’بی ایل اے کے نام پر جرائم پیشہ لوگ ان اسمگلرز کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں، بلوچستان میں قبائلی عمائدین، بیوروکریسی اور علیحدگی پسند تحریک چلانے والوں کا گٹھ جوڑ بن چکا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ دور روز کے دوران 177دہشت گرد مارے گئے، 16سیکورٹی فورسز اور 33عام شہری شہید ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے جغرافیے کی وجہ سے وہاں پر بڑے پیمانے پر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کی ضرورت ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان میں آج 15ہزار 96 اسکولز ہیں، بلوچستان میں 13کیڈٹ کالجز ہیں، آج بلوچستان میں 13بڑے ہسپتال ہیں، بلوچستان میں احساس محرومی کا بیانیہ بنایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا این ایف سی شیئر 933 ارب ہے، ایرانی تیل کے پمپ کوئٹہ کے وسط میں پایا جاتا ہے، سرداری نظام نے بلوچستان کے تمام وسائل کو لوٹا۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان جتنے ایئرپورٹ کسی صوبے میں نہیں ہیں، جو ایئرپورٹس آپریشنل نہیں ان کو آپریشنل کر رہے ہیں، جو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں ان کا نام مسنگ پرسنز لسٹ میں ہے، مسنگ پرسنز باہر بیٹھے ہیں اور ان کے خاندان پیسے لے رہے ہیں، اتنے بڑے صوبے کو مینیج کرنا بہت بڑا ٹاسک ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ بلوچستان میں متعدد آپریشنز ہوئے، بلوچستان میں آج بھارتی پراکسیز کام کررہی ہیں، بلوچستان سمیت جب بھی بلدیاتی نظام آیا ہے اس نے ترقی دی ہے، تقسیم پاکستان کے وقت جتنی بلوچستان میں ترقی تھی، آج تعلیمی اداروں ہسپتالوں سمیت سب کچھ کئی گنا بڑھ چکی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ کرپشن دیمک ہے جو بلوچستان تمام صوبوں اور مرکز میں ہے، کرپشن کے خاتمے کے لئے قومی یک جہتی کی ضرورت ہے، بلوچستان میں ترقی روکنے کے لئے بلیک میلنگ کی جاتی رہی ہے، سرداری نظام نے بلوچستان کو ترقی نہیں ہونے دی، کچھ عرصہ قبل میں نے لاپتہ افراد کے اعدادوشمار لئے تھے جو سات سو سے ساڑھے سات سو تھے۔

انہوں نے کہا کہ کلبھوشن کہاں سے پکڑا گیا، بلوچستان اتنا بڑا علاقہ ہے اسے کنٹرول کرنا بہت ہی مشکل ہے، بلوچستان میں لڑنے والوں کے پاس وہ اسلحہ ہے جو سیکیورٹی فورسز کے پاس بھی نہیں، کوئی بتا سکتا ہے اتنا جدید ترین اسلحہ کہاں سے آرہا ہے، ان دہشت دہشت گردوں کے پاس بیس ہزار ڈالر کا اسلحہ ہے، کوئی بتائے کہ کون ان لوگوں کو کون اسلحہ دے رہا ہے؟ ان کے پاس امریکی اسلحہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس میں مزدوروں کو مارا گیا بے گناہ لوگوں کو مارنا کون سا بیانیہ ہے؟ بی ایل اے چوروں کی آرمی ہے جو اسمگلروں کو حفاظت فراہم کرتی ہے، فساد میں ملوث لوگوں کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جا سکتے، ان لوگوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے ان دہشت گردوں کو پوری طاقت کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے اختلاف بھلا کے پاک فوج کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے، میں اس ایوان کو یقین دلاتا ہوں بلوچستان میں دہشتگردوں سے کوئی بات نہیں ہوگی، ریاست پوری قوت کے ساتھ عورتوں بچوں اور فورسزکو شہید کرنے والوں کو جواب دے گی، یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ ہم شہدا کے جنازے پڑھنے جائیں اور کوئی سیاسی مفاد کے لئے شہدا کے جنازوں میں شریک نہ ہو، ہم قطعی طور پر ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے تمام سیاستدانوں کو دہشت گردوں کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ارکان قومی اپنے حلقوں میں دیکھ لیں کتنی کرپشن ہوتی ہے، جب ملکی سیاسی قیادت کرپشن پر نظر ہی نہیں رکھے گی تو کیا ہوگا؟ اس ایوان میں ارکان اتنی سنجیدہ بات کے دوران گپیں ماررہے ہیں یہ اس ایوان کی سنجیدگی کا عالم ہے، آج بی ایل اے جیسی تنظمیوں اور اسمگلنگ مافیا کا اتحاد ہوچکا ہے، ایرانی تیل پر فی لٹر اسمگلرز اور بی ایل اے میں حصہ طے ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان جنگ کی وجہ سے دہشت گردی آنے پر اتفاق کرلیا، روس کے وقت اور جنرل پرویز مشرف کے وقت ہم نے پرائی جنگیں اپنے گلے میں ڈالیں، ہمارے بچے دہشت گردی میں جانیں دے رہے ہیں، میں کابل گیا انہوں نے دس ارب روپے مانگے کہ ہماری سرحد سے دور ان کو بسائیں گے ہم نے گارنٹی مانگی کہ ہم دس ارب دینے کو تیار ہیں مگر گارنٹی نہ دی گئی، دہشت گردی جیسے بھی آئی جس کی وجہ سے بھی آئی مگر کیا ہم شہدا کو تنہا چھوڑ دیں؟

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان و بلوچستان کے علاقوں میں پچاس فیصد نوجوان فوجیوں کی واپسی ہوتی ہے باقی شہید ہوتے ہیں، ہمارے بچے وہ قرض ادا کررہے ہیں جو ان پر واجب بھی نہیں تھے، آج حکومت و اپوزیشن فوجی جوانوں کے ساتھ کھڑی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد میں روایتی اسٹیمپ پیپر کی جگہ ای-سٹیمپ کا کامیاب اجراء اسلام آباد میں روایتی اسٹیمپ پیپر کی جگہ ای-سٹیمپ کا کامیاب اجراء وفاقی وزیر مواصلات علیم خان نے سینیٹر پلوشہ خان سے معافی مانگ لی بلوچستان حملے: چین کا پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان تھائی سفارت خانے میں ملکہ سریکیت کی 100 ویں برسی پر دعا اور مدح سرائی بارسلونا: اوورسیز پاکستانیوں کو سہولت دینے کے لیے قونصلیٹ کے غیر معمولی اقدامات، ہفتہ وار تعطیلات ختم، طویل اوقات میں خدمات جاری — چوہدری.

.. حکومت کا ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: بڑے پیمانے پر بلوچستان میں کی ضرورت ہے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار