پاکستان کے خلاف سرگرم بی ایل اے کو اسرائیل اور بھارت کی حمایت حاصل، حقیقت آشکار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے پیچھے اسرائیل اور بھارت کا ہاتھ بے نقاب ہوگیا۔
بھارت جو کھلے عام بی ایل اے کو سپورٹ کررہا ہے، لیکن اب اسرائیل کے بھی بلوچ لبریشن آرمی کے ساتھ تعلقات بے نقاب ہوگئے ہیں۔
اسرائیلی ماہر تاریخ ڈاکٹر ڈاکٹر ہائم بریشیٹھ زابنر نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل بلوچستان میں سرگرم بلوچ ملیشیا کی حمایت کررہا ہے تاکہ پاکستان کو نشانہ بنایا جا سکے۔
Israel and BLA nexus exposed
Israeli historian Dr.
This is explosive. #Breaking #Pakistan #Balochistan pic.twitter.com/hfWyNyVH5N
— Ammar Masood (@ammarmasood3) February 2, 2026
ڈاکٹر ہائم بریشیٹھ زابنر نے اعتراف کیاکہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) بھارت اور اسرائیل کی ایما پر کام کرنے والا ایک پراکسی گروپ ہے۔
یہ دعویٰ پاکستان کے لیے ایک حساس اور اہم معاملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ بی ایل اے اور دیگر پراکسیز گروپ کو بھارت اور اسرائیل کی سرپرستی حاصل ہے جو معصوم شہریوں کو دہشتگردی کا نشانہ بناتے ہیں۔
کچھ روز قبل دہشتگردوں نے بلوچستان کے 12 مقامات پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 17 سیکیورٹی اہلکار اور 33 شہری شہید ہوئے، جبکہ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں مجموعی طور پر 177 دہشتگرد مارے گئے۔
پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ وہ ہر طرح کی دہشتگردی کے خلاف ہے اور اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔
دوسری جانب افغانستان اور بھارت براہ راست پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں ملوث ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسرائیل بھارت بی ایل اے پاکستان میں دہشتگردی حقیقت آشکار وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل بھارت بی ایل اے پاکستان میں دہشتگردی حقیقت ا شکار وی نیوز بی ایل اے
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔