میئر کراچی کے موبائل مارکیٹ آتشزدگی کو ’’واردات ‘‘کہنے پر صحافی اور شہری حلقوں کی تنقید
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی :شہر قائد کے میئر مرتضیٰ وہاب کی جانب سے صدر گل پلازہ کے قریب النجیبی موبائل مارکیٹ میں لگنے والی آگ کو سوشل میڈیا پر “واردات” قرار دینے پر صحافتی حلقوں اور شہریوں کی جانب سے تنقید سامنے آئی ہے۔
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے اپنے آفیشل فیس بک پیج پر آگ کے حوالے سے بیان جاری کیا، جس میں میئر کراچی کی طرف سے آتشزدگی کے مقام کو “موقعِ واردات” قرار دیا گیا تاہم قانونی اور صحافتی اصطلاحات کے مطابق “موقعِ واردات” اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں کوئی مجرمانہ فعل، جیسے قتل، ڈکیتی یا کوئی اور قابلِ تعزیر جرم پیش آئے۔ آتشزدگی یا حادثاتی آگ کو، جب تک اسے باقاعدہ طور پر مجرمانہ کارروائی کے طور پر ثابت نہ کیا جائے، “حادثہ” یا “واقعہ” کہا جاتا ہے، نہ کہ واردات۔
اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین اور صحافیوں نے اعتراض کیا کہ ایسے الفاظ استعمال کرنے سے قانونی اور صحافتی معیار متاثر ہوتے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا تھا کہ میئر کراچی نے خبر میں بازی لے جانے کے لیے غیر تجربہ کار عملے کے ذریعے فیس بک پر حادثے کی جگہ کو “موقعِ واردات” لکھوا کر پیش کیا۔
صحافتی حلقوں نے اس پر زور دیا کہ اطلاعات کی درستگی اور الفاظ کا محتاط استعمال شہریوں کو صحیح معلومات فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے، خاص طور پر جب یہ بیان ایک آفیشل ادارے کے اکاؤنٹ سے جاری کیا گیا ہو۔
واضح رہے کہ النجیبی مارکیٹ میں لگنے والی آگ پر فائر بریگیڈ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے قابو پا لیا تھا جبکہ تین گاڑیاں بھی جل گئی تھیں اور ایک شخص کو دھوئیں کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
ویب ڈیسک: پی ٹی اے نے ملک بھر کے موبائل فون صارفین کے لیے ایک اہم اور تنبیہی پیغام جاری کیا ہے جس میں اپنی نام پر رجسٹرڈ سمز کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے خبردار کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ اپنی شناخت پر جاری شدہ سم کسی دوسرے شخص کے حوالے کرنا قانوناً جرم ہے کیونکہ آپ کے نام پر موجود سم کسی بھی غیر قانونی یا مجرمانہ کارروائی میں استعمال ہو سکتی ہے۔
صارفین کی سہولت اور حفاظت کے لیے پی ٹی اے نے ہدایت کی ہے کہ شہری یہ چیک کریں کہ ان کے قومی شناختی کارڈ پر کتنی سمیں فعال ہیں،اس معلومات کیلئے صارفین cnic.sims.pk ویب سائٹ وزٹ کر سکتے ہیں یا اپنا شناختی کارڈ نمبر بغیر کسی ڈیش (-) کے 668 پر ایس ایم ایس کر کے تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اگر شناختی کارڈ پر کوئی نامعلوم یا بلا ضرورت سم نظر آئے تو اسے فوری طور پر بلاک کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محفوظ خریداری اور بائیو میٹرک کا احتیاطی استعمال
پی ٹی اے حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نئی سم کی خریداری کے لیے ہمیشہ صرف مستند فرنچائز یا آفیشل کسٹمر سروس سینٹر کا ہی انتخاب کریں اور اس بات کی مکمل تصدیق کریں کہ آپ کی اجازت یا علم کے بغیر کوئی بھی سم رجسٹر نہ کی جا رہی ہو۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اس سے قبل بھی پی ٹی اے کی جانب سے شہریوں کو خبردار کیا جا چکا ہے کہ مفت سم کا لالچ دے کر بائیو میٹرک تصدیق کروانے والے افراد سے ہوشیار رہیں۔
ایسے دھوکے باز آپ کی بائیو میٹرک کا غلط استعمال کر کے آپ کی معلومات پر کوئی اور سم بھی جاری کروا سکتے ہیں، جس کا خمیازہ بعد میں اصل صارف کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔