روس میں آسمان پر ’چار چاند‘ لگ گئے!
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں رات کے آسمان پر چار چاند چمکتے دیکھ کر مقامی افراد لوگ اُس وقت حیران و ششدر رہ گئے ۔ یہ نایاب منظر اتوار کی رات دیکھا گیا، جس کے بعد اس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے لگیں۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے پہلی نظر میں ایسا محسوس ہو تا ہے کہ جیسے چاند نے خود کو کئی حصوں میں تقسیم کر لیا ہو، کیونکہ اس کے گرد روشن اور چمکتی ہوئی شکلیں نمودار ہو رہی تھیں۔ آسمان کے نظاروں کے شوقین افراد یہ غیر معمولی اور دلکش منظر دیکھ کر رک گئے اور دیر تک آسمان کی طرف دیکھتے رہے۔
آخر یہ “چار چاند” کیسے نظر آئے؟
یہ حیرت انگیز منظر دراصل ایک قدرتی مظہر ہے جسے پیرسیلینی (Paraselenae) کہا جاتا ہے، جسے عام زبان میں مون ڈاگ یا نقلی چاند بھی کہتے ہیں۔ یہ کوئی خلائی واقعہ نہیں بلکہ موسم سے جڑا ایک optical illusion ہے۔
Four moons appear over Russia’s St.
The spectacle, known as a paraselene, was created by moonlight bending through ice crystals in the frosty atmosphere pic.twitter.com/J5C5h4uDx8 — RT (@RT_com) February 1, 2026
یہ منظر اُس وقت بنتا ہے جب چاندنی، آسمان میں موجود نہایت باریک اور اونچائی پر پھیلے بادلوں سے گزرتی ہے جو برف کے ننھے ننھے ذرات پر مشتمل ہوتے ہیں۔
یہ بادل، جنہیں سیروس یا سیروسٹریٹس کہا جاتا ہے، چپٹے اور چھ کونوں والے برفانی ذرات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جب چاندنی ان ذرات سے مڑتی ہے تو چاند کے دونوں جانب روشن دھبے بن جاتے ہیں، جو یوں محسوس ہوتے ہیں جیسے آسمان پر ایک نہیں بلکہ کئی چاند جگمگا رہے ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔