data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور :پنجاب حکومت نے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی) پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ طور پر وفاقی حکومت کو خط ارسال کر دیا گیا ہے، صوبائی حکومت نے آئی جی پنجاب کی تعیناتی کے لیے تین سینئر پولیس افسران کے نام وفاق کو بھجوا دیے ہیں جن میں وسیم سیال، بلال کمیانہ اور راؤ عبدالکریم شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت میں ان ناموں پر غور جاری ہے اور آئی جی پنجاب کے لیے راؤ عبدالکریم کو مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے، ان کا پروفیشنل ریکارڈ، انتظامی تجربہ اور مختلف اہم عہدوں پر خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ترجیح دی جا سکتی ہے، حتمی فیصلہ وزیراعظم کی منظوری سے مشروط ہوگا۔

ذرائع کے مطابق موجودہ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو وفاق میں ایک اہم ذمہ داری سونپے جانے کا امکان ہے، ڈاکٹر عثمان انور کو ڈائریکٹر جنرل فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ڈی جی ایف آئی اے) تعینات کیے جانے کا قوی امکان موجود ہے۔ اس ضمن میں بھی مشاورت جاری ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد باضابطہ اعلان متوقع ہے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر عثمان انور نے بطور آئی جی پنجاب اپنے دور میں پولیس اصلاحات، امن و امان کے قیام اور جرائم کی روک تھام کے حوالے سے متعدد اقدامات کیے۔ ان کے دور میں پولیس کے انتظامی ڈھانچے میں بہتری اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی توجہ دی گئی،حالیہ عرصے میں صوبائی حکومت کی جانب سے پولیس قیادت میں تبدیلی پر غور کیا جا رہا تھا، جس کے بعد اب یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب کی تبدیلی کا مقصد صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانا اور پولیس فورس کی کارکردگی کو مؤثر بنانا ہے۔ نئے آئی جی کی تعیناتی کے بعد پولیس پالیسی اور انتظامی حکمت عملی میں کچھ تبدیلیاں متوقع ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد نئے آئی جی پنجاب کے نام کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا، جس کے بعد نوٹیفکیشن جاری ہوگا اور نئی تعیناتی عمل میں آئے گی۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر عثمان انور کے بعد

پڑھیں:

بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے

تصویر سوشل میڈیا۔

پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔ 

لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔  

لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا

بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔ 

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ