سابق ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ پر ذاتی اثر و رسوخ استعمال کر کے تاجر کو اغواء کروانے کا الزام ہے: تفتیشی حکام
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
سابق ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ—فائل فوٹو
سابق ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کو عہدے سے ہٹائے جانے کے معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق ڈی آئی جی پر ذاتی اثر و رسوخ استعمال کر کے تاجر کو اغواء کروانے کا الزام ہے، 19 دسمبر 2025ء کو پیر محمد شاہ نے حیدرآباد میں تاجر کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔
حکام نے کہا کہ مقدمے میں بزنس مین سے 31 کروڑ روپے سے زائد رقم کی واپسی کا مطالبہ ظاہر کیا، رواں سال 14 جنوری کی شام حیدرآباد کی پولیس کراچی آئی۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ حیدرآباد کی پولیس ڈیفنس فیز 6 سے مقدمے میں نامزد تاجر کو ساتھ لے گئی، تاجروں کی مداخلت کے بعد مغوی تاجر کو حیدرآباد پولیس نے چھوڑ دیا، تاجر کی مدعیت میں پیر محمد شاہ کے خلاف 22 جنوری کو گذری تھانے میں مقدمہ درج ہوا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق مظہر نواز شیخ کو ڈی آئی جی ٹریفک کراچی تعینات کر دیا گیا۔
مدعیٔ مقدمہ دانش متین نے کہا کہ 14 جنوری کو ڈیفنس فیز 6 میں اپنے گھر سے دفتر جانے کے لیے نکلا، وائٹ گاڑی میں سوار 3 افراد نے مجھے روکا اور زبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ 2 افراد نے پولیس یونیفارم سے ملتا جلتا لباس پہنا ہوا تھا، ملزمان نے مجھ سے 31 کروڑ روپے سے زائد کا تقاضہ کیا، ملزمان نے میرے گھر کال کر کے 30 کروڑ روپے تاوان بھی مانگا۔
مدعیٔ مقدمہ کا کہنا ہے کہ ملزمان نے اسی روز ہائی وے کے قریب 10 لاکھ روپے لے کر مجھے چھوڑ دیا، ملزمان نے رات ساڑھے 11 کے قریب مجھے میرے دفتر کے قریب چھوڑا۔
اس حوالے سے ایس ایس پی حیدرآباد نے کہا ہے کہ واقعے میں ملوث حیدرآباد پولیس کے 3 اہلکار معطل کر دیے گئے ہیں، معطل کیے گئے اہلکاروں میں اے ایس آئی اور 2 کانسٹیبل شامل ہیں۔
واضح رہے کہ آئی جی سندھ نے ڈی آئی جی پیر محمد شاہ سے تاجر اغواء کیس میں وضاحت طلب کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ تاجر کو نے کہا
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔