خیبر پختونخوا: فائر سیفٹی اقدامات سے متعلق محکمہ صحت کا مراسلہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
کراچی کے گل پلازا میں آگ لگنے کے واقعہ کے بعد محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے اقدامات، صوبے کے تمام سرکاری و خودمختار اسپتالوں کو الرٹ جاری کردیا گیا۔
فائر سیفٹی اقدامات سے متعلق محکمہ صحت خیبرپختونخوا کا مراسلہ سامنے آیا ہے۔
مراسلے کے مطابق تمام طبی اداروں میں آگ بجھانے والے آلات کی تنصیب اور فعالیت لازمی قرار دی جائے گی۔
اسپتالوں، میڈیکل کالجوں اور ضلعی دفاتر میں فائر سیفٹی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے، مراسلہ میں کہا گیا کہ فائر سیفٹی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
مراسلے میں کہا گیا کہ کراچی کے گل پلازا واقعے کے بعد صوبے بھر کے اسپتالوں میں حفاظتی آلات کی جانچ پڑتال جاری ہے۔
سیکریٹری صحت کا مزید کہنا ہے کہ ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات مکمل کیے جارہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فائر سیفٹی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔