خواتین کے مقابلے مردوں میں امراض قلب کا خطرہ 7 سال قبل بڑھنے لگتا ہے، تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(جسارت نیوز)ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ مردوں میں امراض قلب کا خطرہ خواتین کے مقابلے میں 7سال قبل ہی بڑھنے لگتا ہے۔امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات امراض قلب سے ہوتی ہیں اور مردوں میں یہ شرح خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہے، جبکہ مردوں میں امراض قلب کا خطرہ 30 سے 40 سال کے درمیان ہی بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔3 دہائیوں سے بھی طویل تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اگر 30 سال کے بعد امراض قلب کی اسکریننگ کو معمول بنا لیا جائے تو ان سے ہونے والی اموات کی شرح میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے، تحقیق میں 5100 سے زائد افراد کو شامل کیا گیا جن کی عمریں 1980 کی دہائی کے وسط میں 18 سے 30 سال کے درمیان تھیں اور ان کی صحت کا جائزہ 2020 تک لیا گیا۔تحقیق کے آغاز میں سب افراد صحت مند تھے اور اسی وجہ سے محققین یہ جاننے میں کامیاب رہے کہ امراض قلب کا خطرہ کب بڑھنا شروع ہوتا ہے، مردوں میں یہ خطرہ خواتین کے مقابلے میں کئی سال قبل بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امراض قلب کا خطرہ خواتین کے مقابلے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔