Jasarat News:
2026-06-02@23:56:43 GMT

سپلا کا سندھ سیکرٹریٹ کے سامنے علامتی دھرنا و مظاہرہ

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی ( جسارت نیوز)سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کراچی ریجن کے زیرِ اہتمام احتجاجی تحریک کے سلسلے میںگورنمنٹ ایس ایم ارٹس اینڈ کامرس کالج سے ایک ریلی نکالی گئی جو کہ سندھ سیکرٹریٹ کے سامنے دھرنے اور احتجاجی جلسے میں تبدیل ہو گئی۔ ریلی کی قیادت سپلا کے مرکزی صدرپروفیسر منور عباس، مرکزی سیکرٹری جنرل پروفیسر غلام مصطفی کاکا کراچی ریجن کے قائم مقام صدرپروفیسر آصف منیر، جنرل سیکرٹری کراچی ریجن پروفیسر نہال اختر نے کی۔ ریلی میں کراچی بھر کے کالج اساتذہ نے بھرپور شرکت کی۔ان کے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز موجود تھے جن پر ان کے مطالبات درج تھے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سپلا کے مرکزی صدر پروفیسر منور عباس نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ سے کالجز، طلبہ اور اساتذہ کے مسائل کے حل کے لیے سپلا کی احتجاجی تحریک کا سلسلہ جاری ہے گزشتہ ایک ماہ سے سندھ کے کالج اساتذہ احتجاج کر رہے ہیں مگر افسوس تا حال وزیر تعلیم نے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا جس سے ان کی کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں عدم دلچسپی واضح طور پر عیاں ہوتی ہے۔ سپلا کے مرکزی صدر نے مزید کہا کہ آج ہم کراچی ریجن کے اساتذہ سندھ سیکریٹریٹ کے سامنے علامتی دھرنا دے کر اپنے مسائل کی جانب بیوروکریسی کی توجہ دلانا چاہتے ہیں۔ اب 12 فروری کو سندھ بھر کے کالج اساتذہ بلاول ہاس کی جانب رخ کریں گے۔کراچی ریجن کے صدر پروفیسر آصف منیر* نے اپنے خطاب میں کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے سرد رویے پر گہرے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے اساتذہ کے مطالبات پیش کئے۔

جسارت نیوز گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کراچی ریجن کے

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود