سانحہ گل پلازہ کو 17 روز گزر گئے‘ پولیس تحقیقات جاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260203-01-12
کراچی (اسٹاف رپورٹر ) سانحہ گل پلازہ کو 17 روز گزر گئے، تحقیقات تاحال جاری ہیں۔ تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ گل پلازہ دکان نمبر 193 کی دکان کے مالک کے بیٹے کا تیسری بار بیان ریکارڈ کیا جائے گا، آگ دکان نمبر 193 میں بچے کی ماچس سے کھیلتے ہوئے لگی۔پہلی اور دوسری منزل کی سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب نہ ہو سکی، فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں نے ریسکیو کے بجائے فوری پانی سے آگ بجھانے کی کوشش کی، دھواں بھرنے کے 20 منٹ بعد دکانداروں نے گرل توڑی۔ایک دکاندار نے تفتیشی ٹیم کو بتایا کہ فرسٹ فلور سے اکثر افراد نکل گئے، 25 سے 30 افراد دبئی کراکری میں رک گئے تھے، دبئی کراکری کے دکانداروں نے دھواں اور اندھیرا ہونے سے لوگوں کو باہر نکلنے سے روکا۔دوسرے دکاندار نے کہا کہ ڈیڑھ سو کے قریب افراد کو راستہ دکھایا، دکانداروں نے گاہکوں سے کہا کہ آگ خود بجھ جائے گی۔ بعد ازاں 20 سے 25 افراد کی باقیات دبئی کراکری اور اطراف سے ملی تھیں۔تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں 79 افراد جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 68 جاں بحق افراد کی میتیں اور باقیات ورثا کے حوالے کی گئی ہیں۔تفتیشی ذرائع کے مطابق خرم نامی شخص سمیت 5 افراد کی باقیات اب بھی ایدھی سرد خانے میں موجود ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خرم سمیت 5 جاں بحق افراد کا اب تک کوئی وارث سامنے نہیں آیا ہے، سانحہ گل پلازہ میں 4 سے زائد افراد کی باقیات تاحال نہیں مل سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ افراد کی
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔