اسلام آباد:

ایف بی آر اور پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے جعلی افسران اور پولیس حکام پر مشتمل جعلی مشترکہ ٹیموں کی جانب سے کاروباری مراکز میں جعلی چھاپے مارنے اور تاجروں کو ہراساں کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی کے معروف کاروباری مرکز جوڑیا بازار میں متاثرہ دکان داروں نے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو خط لکھ کر معاملے کی انکوائری کی درخواست کردی ہے۔

 

ایکسپریس کو دستیاب اس خط کے مطابق کراچی کے جوڑیا بازار کے سہیل قادری نامی متاثرہ تاجر کی جانب سے چیئرمین ایف بی آر کو لیٹر لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے جوڑیا بازار میں تجارت کررہے ہیں، 31 جنوری کو شام چار بجے کے قریب دس سے بارہ لوگوں نے ان کی دکان پر چھاپہ مارتے ہوئے دکان میں موجود مصنوعات کو پھینکنا اور نقصان پہپنچانا شروع کردیا اور دکان میں موجود اشیاء کے پیداواری سرٹیفکیٹ مانگنا شروع کردیئے اور کہا کہ آپ کے بارے میں اطلاع ہے کہ آپ غیر رجسٹرڈ اشیاء فروخت کررہے ہیں۔   جب ان سے اصرار کیا گیا تو انہوں نے خود کو ایف بی آر اور پی ایس کیو سی اے کے افسران ظاہر کیا تاہم جب ان سے دفتری کارڈز مانگے گئے تو دفتری کارڈز دکھانے کی بجائے دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ لیٹر میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کی دکان پر آنے والے افسران میں سے تین افراد پولیس اہلکار تھے جو خود کو میٹھا در پولیس اسٹیشن سے ظاہر کر رہے تھے، ان افراد نے بغیر کسی پیشگی اطلاع، وارنٹ یا قانونی اجازت کے میری دکان میں موجود مصنوعات کو پھینکا اور نقصان پہنچایا، مزید یہ کہ انہوں نے انتہائی غیر پیشہ ورانہ رویّے کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو بڑے اداروں ایف بی آر اور پی ایس کیو سی اے کا نام استعمال کر کے مجھے ہراساں کیا اور میرے خلاف کارروائی کی دھمکیاں دیں۔   لیٹر میں کہا گیا ہے کہ میری بار بار درخواست اور اصرار کے باوجود نہ تو انہوں نے اپنی مکمل شناخت ظاہر کی اور نہ ہی کسی قسم کے تحریری احکامات یا قانونی دستاویزات پیش کیں جو کہ سراسر غیر قانونی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے جس سے مجھے یہ یقین بلکہ شدید شبہ پیدا ہوا کہ مذکورہ افراد سرکاری اداروں کے نام فرضی طور پر استعمال کر رہے تھے اور اس عمل کے ذریعے اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔   لیٹر میں مزید کہا گیا ہے کہ اس ضمن میں، میں اپنی جانب سے اس اہم امر کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ اگر واقعی یہ کارروائی کسی سرکاری ادارے کی جانب سے ہوتی تو اس کے لیے باقاعدہ شناخت، تحریری احکامات اور قانونی طریقہ کار اختیار کیا جاتا جو کہ اس واقعے میں قطعی طور پر موجود نہیں تھا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ واقعہ کے بعد وہ متعلقہ پولیس اسٹیشن بھی گئے جہاں ساری صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔   اس دوران معلوم ہوا کہ یہ کاروائی ان کے کاروباری حریف کی جانب سے کروائی گئی ہے لہذا چیئرمین ایف بی آر کی توجہ اس اہم امر کی جانب بھی مبذول کروانا چاہتا ہوں۔   انہوں نے لیٹر میں الزام عائد کیا ہے کہ جس اتھارٹی کا استعمال ایک شخص آصف مجید، مبینہ طور پر کاشف ضیاء کے نام پر کر رہا ہے اس کے بارے میں یہ بات میرے علم میں آئی ہے کہ وہ خود قومی اداروں ایف بی آر اور پی ایس کیو سی اے کے دائرہ اختیار میں کروڑوں روپے کی سیلز ٹیکس چوری سے متعلق تحقیقات میں شاملِ تفتیش ہے مذکورہ معاملات کی تفتیش اس وقت آر ٹی او لاہور اور آئی این آئی پشاور کی جانب سے کی جا رہی ہے لہٰذا میری درخواست ہے کہ مذکورہ تمام حقائق و شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور سخت سے سخت تفتیش و تحقیقات کرائی جائیں اور سرکاری اداروں کے نام کے ناجائز استعمال اور ہراساں کرنے کے جرم میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔  

دوسری جانب ایف بی آر اور پی ایس کیو سی اے حکام نے کسی بھی قسم کے مشترکہ ٹیم کے ہمراہ کاروائیوں کی تردید کی ہے اور پی ایس کیو سی اے نے معاملے کی چھان بین بھی شروع کردی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہا گیا ہے کہ کی جانب سے لیٹر میں انہوں نے

پڑھیں:

پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔

اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔ 

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف