کراچی: مسلح ملزمان 4 دکانوں کے تالے توڑ کر لاکھوں مالیت کے زیورات اور نقدی لے اڑے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
کورنگی کے ایریا مارکیٹ میں نامعلوم ملزمان نے چوکیدار کو اسلحے کے زورپریرغمال بنانے کے بعد چار جیولرز شاپ کے تالے توڑکرلاکھوں مالیت کے طلائی وچاندی کی زیورات ، نقدی اوربعض شاپ میں رکھی تجوری بھی لے اڑے۔
رپورٹ کے مطابق پیرصبح عوامی کالونی تھانے کے علاقے کورنگی کے ایریا مارکیٹ میں نامعلوم ملزمان نے چوکیدار کو اسلحے کے زورپریرغمال بنانے کے بعد چارجیولرزشاپ کے تالے توڑکرلاکھوں مالیت کے طلائی وچاندی کی زیورات ، نقدی اور بعض شاپ میں رکھی تجوری بھی لے اڑے۔
واردات کی اطلاع ملنے پردکاندار موقع پر پہنچ گئے اوردکانداروں نے فوری طورپرپولیس کو موقع پر طلب کرلیا، جس پرعلاقہ پولیس موقع پرپہنچ گئی اورپولیس نے جائے واردات سے شواہد اکٹھا کرنے کے لیے کرائم سین یونٹ کو بھی موقع پرطلب کرلیا۔
تالے توڑ کر ڈکیتی کی واردات عبد الرزاق جیولرز، رحیم داد خان ، مقصود علی جیولرز اور آفتاب جیولرز میں انجام دی گئی۔
واردات میں ملوث ملزمان 2 موٹر سائیکلوں اور ایک ہائی روف گاڑی میں سوار تھے جن کی تعداد 8 کے قریب تھے نامعلوم مسلح ملزمان نے نمازفجرکے بعد مارکیٹ کے اکلوتے چوکیدارکو اسلحے کے زور پر قابو پانے کے بعد انجام دی۔
جیولری شاپ کے دکاندروں نے بتایاکہ کچھ عرصہ قبل صرافہ مارکیٹ کے چوکیدار کا انتقال ہو گیا تھا جس کے بعد کوئی نہ چوکیدار نہیں رکھا گیا اورایک چوکیدار پوری مارکیٹ کا چوکیدار ہے جسے ملزمان نے اسلحہ کے زور پر قابوکیا اور واردات انجام دی۔
عبد الرزاق جیولری شاپ کے مالک عبدالرزاق نے بتایاکہ مسلح ملزمان ان کی دکان میں موجود لاکھوں روپے مالییت کے طلائی و چاندنی کے زیورات لے اڑے۔
کئی زیواردات کو شہریوں کی امانت کے طور پررکھے ہوئے تھے، نامعلوم مسلح ان کی دکان میں رکھی تجوری بھی ساتھ لے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزمان ان کی عمر پھر کی پونجی لوٹ کر فرار ہوئے ہیں واردات کے بعد وہ سڑک پر آگئے ہیں کس کے پاس جاکر انصاف کا مطالبہ کریں۔
متاثرہ جیولر محمد شکیل کا کہنا ہے کہ ان کی دکان سے بھی بھاری مالیت کے طلائی زیورات لوٹے گئے ہیں ہماری دکان سے تجوری توڑ کر نقدی لوٹی گئی ہےدیگر دکانوں سے بھی بھاری مالیت کا سونا لوٹا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق واردات کی اطلاع چوکیدار کی جانب سے دی گئی، ملزمان مبینہ طور پر چار جیولری شاپ سے تمام سونا لوٹ کر فرار ہوئے، کرائم سین یونٹ موقع سے زوائد اکھٹے کر لیے ہیں۔
اطراف میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کی جارہی ہے جبکہ مارکیٹ کے چوکیدار سے بھی ملزمان سے متعلق معلومات حاصل کی جا رہی ہے، امید ہے دستیاب شواہد کی روشنی میں جلد ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے طلائی مالیت کے کے بعد لے اڑے
پڑھیں:
ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔
ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟
یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔
چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔
آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔
’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔
ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔
بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔
قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔
سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔
50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹرچند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔
یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیےایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔
عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟
مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘
ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل