بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورک کینیڈا سمیت دنیا بھر کے لیے سنگین خطرہ بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
سڈنی(نیوز ڈیسک) بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورک کینیڈا سمیت دنیا بھر میں عوام کے جان و مال کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق بھارت کا بیرونِ ملک جرائم پیشہ عناصر، انسانی اسمگلرز اور دہشت گرد نیٹ ورکس کو فروغ دینا اب ایک منظم پالیسی کا حصہ بنتا دکھائی دیتا ہے۔
کینیڈا، آسٹریلیا اور امریکہ سمیت کوئی بھی ملک بھارتی منظم جرائم پیشہ گروہوں کے خطرے سے محفوظ نہیں رہا۔ آسٹریلوی جریدے “اسپیکٹیٹر آسٹریلیا” کے تہلکہ خیز انکشاف میں بیرونِ ممالک میں سرگرم بھارتی جرائم پیشہ گروہوں کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب کر دیا گیا ہے۔
اسپیکٹیٹر آسٹریلیا کے مطابق بھارتی جرائم پیشہ گروہ کینیڈا میں خوف، بھتہ خوری اور دہشت کی فضا قائم کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کینیڈا کے شہر “سرے” میں جنوری سے اب تک بھارتی گروہوں کی جانب سے بھتہ خوری کے 35 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
اسی طرح اونٹاریو میں صرف تین برسوں کے دوران بھارتی جرائم پیشہ گروہوں کے 1500 سے زائد بلیک میلنگ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ جریدے کے مطابق کینیڈا میں سرگرم بدنامِ زمانہ بھارتی بشنوئی گروہ بھتہ خوری اور منظم جرائم میں ملوث ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سکھ گروپوں کا الزام ہے کہ بشنوئی گروہ بھارتی حکومت کی ایما پر کینیڈا میں خالصتان حامی کارکنوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ کینیڈین صحافیوں کے مطابق رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کی رپورٹس میں بارہا انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت اپنے مذموم مقاصد کے لیے بشنوئی گروہ کو استعمال کر رہی ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق بیرونِ ممالک کی خودمختاری اور سفارتی اقدار کو پامال کرتے ہوئے جرائم پیشہ گروہوں کا استعمال بھارت کے لیے شدید شرمناک ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت واقعی معاشی طور پر مستحکم ہوتا تو اس کے شہری دنیا بھر میں جرائم کی علامت نہ بنتے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی شہریوں کے جرائم کی طویل فہرست اس حقیقت کو عیاں کرتی ہے کہ میزبان ممالک میں ان کی موجودگی ایک بڑھتا ہوا سیکیورٹی خطرہ بن چکی ہے، جس پر عالمی برادری کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارتی جرائم پیشہ جرائم پیشہ گروہوں جرائم پیشہ گروہ کے مطابق کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔