ٹی20 ورلڈ کپ: پاکستان بھارت میچ نہ ہونے سے بھارتی براڈکاسٹرز کو اربوں روپے کا مالی نقصان متوقع
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
پاکستان کی جانب سے ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد بھارتی براڈکاسٹرز کو اربوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکومت کی منظوری کے بعد پاکستان نے روایتی حریف بھارت کے خلاف ٹی20 ورلڈ کپ کا میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں بھارتی نشریاتی اداروں کے لیے بھاری مالی خسارے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ: قومی ٹیم سری لنکا پہنچ گئی، بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی کے ردعمل کا انتظار
پاکستان گروپ اے میں بھارت، نمیبیا، نیدرلینڈز اور امریکا کے ساتھ شامل ہے اور اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گا، جو ٹورنامنٹ کا شریک میزبان ہے۔
پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ کا پہلا میچ 7 فروری کو نیدرلینڈز کے خلاف کھیلے گا، اس کے بعد 10 فروری کو امریکا اور 18 فروری کو نمیبیا کے مدمقابل آئے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان میچ کو ٹی20 ورلڈ کپ کا سب سے زیادہ منافع بخش مقابلہ سمجھا جاتا ہے، جو ٹورنامنٹ کی مالی بنیاد، براڈکاسٹ ویلیو، اسپانسرشپ معاہدوں اور اشتہارات کی قیمتوں میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
بھارتی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کمرشل اعتبار سے ایک واحد بھارت پاکستان ٹی20 میچ کی مجموعی مالیت قریباً 500 ملین ڈالر، یعنی لگ بھگ 45 ہزار کروڑ بھارتی روپے بنتی ہے، جس میں نشریاتی حقوق، اشتہاری آمدن، اسپانسرشپ سرگرمیاں، ٹکٹوں کی فروخت اور دیگر تجارتی فوائد شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے ٹی20 میچ کے دوران 10 سیکنڈ کے اشتہاری سلاٹ کی قیمت 25 سے 40 لاکھ بھارتی روپے تک ہوتی ہے۔
مالی اثرات سب سے پہلے آفیشل براڈکاسٹ رائٹس ہولڈر کو برداشت کرنا ہوں گے، جبکہ صرف بھارت پاکستان میچ سے متوقع اشتہاری آمدن تقریباً 300 کروڑ بھارتی روپے بتائی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کو بھی فوری طور پر قریباً 200 کروڑ بھارتی روپے کے نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب سابق پاکستانی کرکٹر راشد لطیف نے نشاندہی کی ہے کہ ٹورنامنٹ میں پہلے ہی بڑے پیمانے پر کارپوریٹ سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا ٹی20 ورلڈ کپ میں انڈیا سے کھیلنے سے انکار، ’انڈیا سوائے ماتم کے کچھ نہیں کرسکتا‘
ان کے مطابق بھارتی ارب پتی مکیش امبانی کے میڈیا گروپ نے قریباً 900 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جبکہ دنیا کے دیگر ممالک نے مجموعی طور پر قریباً 600 ملین ڈالر اس ورلڈ کپ میں لگائے ہیں۔
راشد لطیف کا کہنا تھا کہ جب اتنی بڑی مارکیٹ متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایک براڈکاسٹر تک محدود نہیں رہتے، بھارت متاثر ہوتا ہے، بی سی سی آئی متاثر ہوتی ہے اور بالآخر آئی سی سی بھی اس سے متاثر ہوتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اربوں کا مالی نقصان بھارتی براڈ کاسٹرز پاک بھارت میچ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اربوں کا مالی نقصان بھارتی براڈ کاسٹرز پاک بھارت میچ وی نیوز بھارتی روپے ٹی20 ورلڈ کپ کے خلاف ہوتی ہے
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔