سرگودھا میں پالتو کتے کو مارنے سے منع کرنا ایک خاندان کے لیے جان لیوا ثابت ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سرگودھا میں پالتو کتے کو مارنے سے منع کرنا ایک خاندان کے لیے جان لیوا ثابت ہوتے ہوتے رہ گیا، جہاں مبینہ طور پر 17 افراد نے بھائی اور بہن کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔
واقعہ بھاگٹانوالہ کے علاقے بنگلہ لالوالی کے قریب پیش آیا، جس پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔
بھاگٹانوالہ پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون نے اپنی درخواست میں بتایا کہ وہ اپنے بھائی کے ہمراہ موٹر سائیکل پر جا رہی تھیں کہ راستے میں مرکزی ملزم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ان پر حملہ کر دیا اور دونوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔
متاثرہ خاتون کے مطابق واقعے کی بنیاد چار روز قبل پڑی تھی، جب مرکزی ملزم ان کے پالتو کتے کو مار رہا تھا۔ منع کرنے پر ملزم نے طیش میں آ کر دھمکیاں دی تھیں، جو بعد ازاں تشدد کی صورت اختیار کر گئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ڈی پی او سرگودھا محمد صہیب اشرف کے احکامات پر 13 نامزد اور 4 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے شروع کر دیے ہیں اور واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔