دکانداروں نے گاہکوں کو باہر نکلنے سے روکا، سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات میں اہم انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
دکانداروں نے گاہکوں کو باہر نکلنے سے روکا، سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات میں اہم انکشافات WhatsAppFacebookTwitter 0 3 February, 2026 سب نیوز
کراچی:(آئی پی ایس) سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، پولیس کو میزنائن، فرسٹ اور سکینڈ فلور کی سی سی ٹی وی ویڈیوز نہیں مل سکی ہیں۔
انکوائری کمیٹی نے آتشزدگی کے 20 منٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کر لی ہیں، میزنائن فلور کی سی سی ٹی وی کو مقدمہ اور انکوائری کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آگ سوا 10 بجے لگی جبکہ آگ لگنے کے آدھے گھنٹے بعد بھی دکانیں کھلی رہیں اور سی سی ٹی وی میں11 بجے تک دکاندار اور گاہک بیٹھے نظر آئے۔
فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں نے شہریوں کو نکالنے کے بجائے آتے ہی پانی مارنا شروع کیا۔ زیادہ تر افراد نکل گئے جبکہ 25 سے 30 افراد دبئی کراکری شاپ میں رک گئے، دبئی کراکری شاپ کے دکانداروں کی جانب سے لوگوں کو باہر نکلنے سے روکا گیا۔
ریسکیو کرنے والے ایک دکاندار کے مطابق اس نے 150 کے قریب گاہگوں کو راستہ دکھایا۔ دبئی کراکری شاپ میں موجود لوگوں سے چلنے کوکہا مگر دکانداروں نے روک دیا۔
دکانداروں نے کہا کہ آگ بجھ جائے گی کہیںمت جائیں۔ ان ہی 30 افراد کی باقیات دبائی کراکری شاپ سے ملی تھیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآئینی عدالت کی پسند کی شادی کرنے والی خاتون کو شوہر کیساتھ جانے کی اجازت آئینی عدالت کی پسند کی شادی کرنے والی خاتون کو شوہر کیساتھ جانے کی اجازت وفاقی آئینی عدالت نے کوئٹہ بلدیاتی انتخابات و حلقہ بندیوں سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا پاکستان اور ازبکستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور رابطہ کاری تیز کرنے پر اتفاق بیورو کریسی کے لیے بڑی اور اچھی خبر کی تفصیلات اور نوٹیفکیشن سب نیوز پر پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان بحری تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق پاکستان اور کینیڈا کا تجارت، کان کنی اور زرعی شعبہ میں تعاون بڑھانے پر اتفاقCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: دکانداروں نے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔