برطانیہ کا ایران کی شخصیات اور اداروں پر نئی پابندیوں کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
لندن (نیوز ڈیسک) برطانیہ نے ایران کی شخصیات اور اداروں پر نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا۔
برطانوی حکام کے مطابق پابندیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے پر لگائی گئیں ، متاثرہ افراد کے اثاثے منجمد اور سفری پابندیاں عائد ہوں گی۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ پابندیوں کے تحت نامزد افراد کے برطانیہ میں موجود اثاثے منجمد کر دیئے جائیں گے جبکہ ان پر سفری پابندیاں بھی عائد ہوں گی، جس کے نتیجے میں وہ برطانیہ کا سفر نہیں کر سکیں گے۔
حکام نے واضح کیا کہ یہ اقدام انسانی حقوق کے تحفظ اور عالمی سطح پر جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
برطانیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتا رہے گا اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا جو بنیادی انسانی اقدار کو پامال کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔