برطانیہ کا ایران کی شخصیات اور اداروں پر نئی پابندیوں کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
لندن (نیوز ڈیسک) برطانیہ نے ایران کی شخصیات اور اداروں پر نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا۔
برطانوی حکام کے مطابق پابندیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے پر لگائی گئیں ، متاثرہ افراد کے اثاثے منجمد اور سفری پابندیاں عائد ہوں گی۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ پابندیوں کے تحت نامزد افراد کے برطانیہ میں موجود اثاثے منجمد کر دیئے جائیں گے جبکہ ان پر سفری پابندیاں بھی عائد ہوں گی، جس کے نتیجے میں وہ برطانیہ کا سفر نہیں کر سکیں گے۔
حکام نے واضح کیا کہ یہ اقدام انسانی حقوق کے تحفظ اور عالمی سطح پر جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
برطانیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتا رہے گا اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا جو بنیادی انسانی اقدار کو پامال کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔