وزن کم کرنے والوں کے لیے اہم سوال، اُبلا ہوا انڈا یا آملیٹ؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انڈا برسوں سے ناشتے کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے اور غذائیت کے اعتبار سے اسے ایک مکمل غذا قرار دیا جاتا ہے۔
کوئی اُبلا ہوا انڈا پسند کرتا ہے تو کوئی آملیٹ کی صورت میں، مگر جب مقصد وزن کم کرنا ہو تو یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ کون سا طریقہ زیادہ فائدہ مند ہے۔ ماہرین غذائیت کے مطابق انڈے کے پکانے کے طریقے اور اس میں شامل اجزا اس کی کیلوریز اور غذائی افادیت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق اُبلا ہوا انڈا سب سے سادہ اور کم کیلوریز والا انتخاب ہے کیونکہ اسے تیار کرتے وقت نہ تیل شامل کیا جاتا ہے اور نہ ہی دودھ یا دیگر اجزا۔ ایک بڑے اُبلے ہوئے انڈے میں اوسطاً 6 سے 6.
یہی وجہ ہے کہ اُبلا ہوا انڈا دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس دیتا ہے اور اگلے کئی گھنٹوں میں غیر ضروری کیلوریز کے استعمال کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
دوسری جانب آملیٹ ذائقے کے لحاظ سے زیادہ کشش رکھتا ہے اور اگر اسے مناسب طریقے سے تیار کیا جائے تو یہ بھی ایک متوازن غذا بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کم تیل کے ساتھ تیار کیا گیا آملیٹ، جس میں پالک، پیاز، شملہ مرچ یا مشروم جیسی سبزیاں شامل ہوں، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتا ہے، تاہم زیادہ تیل، پنیر یا پروسیسڈ گوشت شامل کرنے سے اس کی کیلوریز اور چکنائی نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے، جو وزن کم کرنے کے ہدف کو متاثر کر سکتی ہے۔
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص کیلوریز پر سخت کنٹرول رکھنا چاہتا ہے تو اُبلا ہوا انڈا فطری طور پر بہتر انتخاب ہے۔ اس کے برعکس سبزیوں سے بھرپور آملیٹ زیادہ حجم فراہم کرتا ہے، جس سے پیٹ بھرنے کا احساس بڑھ جاتا ہے اور غیر ضروری اسنیکس سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔
اسی لیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ذائقے اور صحت دونوں کو برقرار رکھنے کے لیے دونوں طریقوں کو اپنی روزمرہ ضروریات کے مطابق باری باری استعمال کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا بلا ہوا انڈا کرتا ہے جاتا ہے ہے اور
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی