عمران خان کیلئے فارن فنڈنگ کیس میں نئی مشکل تیار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی
معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ
فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس میں عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کے لیے 2 دن کی مہلت دے دی ہے۔کیس کی سماعت بینکنگ کورٹ کے جج عبدالغفور کاکڑ نے کی جب کہ فارن فنڈنگ کیس میں اسپیشل پراسکیوٹر واثق ملک عدالت میں پیش ہوئے۔دورانِ سماعت جج عبدالغفور کاکڑ نے استفسار کیا کہ آپ ابھی تک کیا کر رہے ہیں اور چالان مکمل کیوں نہیں ہوا۔ اس پر اسپیشل پراسکیوٹر واثق ملک نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میں متعلقہ ملک سے رائے لینے کے لیے خطوط لکھے گئے ہیں۔ جج عبدالغفور کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ 2022 سے چل رہا ہے اور آپ نے ابھی تک اس میں دلچسپی ہی نہیں لی۔عدالت نے کہا کہ وہ تفتیشی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے اور ڈی جی ایف آئی اے کو آئندہ سماعت پر طلب کرنے کا حکم دے رہے ہیں۔ اس پر اسپیشل پراسکیوٹر واثق ملک نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت ایک ہفتے یا 10 دن کا وقت دے تاکہ چالان مکمل کیا جا سکے۔ شوکاز نوٹس اور ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کرنے کا حکم فی الحال نہ دیا جائے۔جج عبدالغفور کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ وہ اس معاملے کو دیکھ لیتے ہیں ۔ عدالت نے پراسیکیوشن کو ہدایت کی کہ 2 دن میں اپنی کارکردگی دکھائیں۔بعد ازاں عدالت نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت 4 فروری تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: جج عبدالغفور کاکڑ نے ایف ا ئی اے کو چالان مکمل فارن فنڈنگ فنڈنگ کیس عدالت نے کیس میں
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔