مجھے فقیر بنا دیا ہے، میرے پاس کوئی انٹرویو کیلئے نہ آئے،' اداکار راشد محمود یوٹیوبرزپر برہم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
پاکستان کے معروف اداکار راشد محمود نے یوٹیوبرز پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے انٹرویو لینے کے لیے نہ آنے کی اپیل کردی۔سوشل میڈیا پر اپنی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے راشد محمود نے کہا کہ 'میں بہت دکھی دل سے گزارش کررہا ہوں، یوٹیوبر سے گزارش کرتا ہوں جنہوں نے اپنے اپنے چینلز بنائے ہوئے ہیں، برائے مہربانی میرے پاس نہ آئیں، نہ مجھے انٹرویو کی ضرورت ہے اور نہ ہی مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔'انہوں نے مزید کہا کہ 'اپنے ویوز کیلئے آپ مجھے سے گفتگو کچھ اور کرکے جاتے ہیں اور ہیڈنگز کچھ اور بنا دیتے ہیں، میرے وقار پر بات آگئی ہے، ایسا لگ رہا ہے مجھے فقیر بنا دیا گیا ہے، میں نے انٹرویو میں ایسا کچھ نہیں کہا، اگر کوئی ایسا کرے گا تو میں کیس کردوں گا۔'واضح رہے کہ چند روز قبل اداکار راشد محمود کی جانب سے اپنے سوشل اکاؤنٹ پر صحت سے متعلق ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی جس میں انہوں نے مہروں کی تکلیف کے حوالے سے اپنے مداحوں کو آگاہ کیا تھا جس کے بعد مختلف یوٹیوب چینلز کی جانب سے اداکار کا انٹرویو لیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔