گورنر سندھ نے مونس علوی کیخلاف صوبائی محتسب کے فیصلے کو کالعدم قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کے الیکٹرک کے سربراہ مونس علوی کے خلاف صوبائی محتسب کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔
کامران ٹیسوری کی جانب سے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صوبائی محتسب نے ریکارڈ پر موجود شواہد کو نظر انداز کیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صوبائی محتسب کا 31 جولائی 2025ء کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔
کراچی صوبائی محتسب اعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ شاہنواز.
واضح رہے کہ صوبائی محتسب نے مونس علوی کو عہدے سے ہٹانے اور 25 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
مونس علوی کے خلاف سابق ملازمہ نے صوبائی محتسب کے پاس شکایت جمع کروائی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مونس علوی
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔