افغانستان میں بھارتی فنانس سے چلنے والے ٹریننگ کیمپس کی معلومات دنیا کو دی: طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری—فائل فوٹو
وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بھارتی فنانس سے چلنے والے ٹریننگ کیمپس کی معلومات دنیا کو دی ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ہمیں انٹرنیشنلی شواہد دیے گئے، اسی لیے بی ایل اے دہشت گرد قرار دی گئی، بلوچستان میں انٹرنیٹ نہیں مگر اس کی فوٹیج بھارتی ٹی وی چینلز پر چل رہی ہوتی ہے۔
وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ہر بار کہہ دینا کہ ایجنسی اٹھاتی ہے، آپ خود پہاڑوں پر چڑھ جائیں، روپوش ہو جائیں۔
انہوں نے کہا کہ مسنگ پرسن ڈھائی ہزار سے بھی کم ہیں، یورپ اور مغرب کے نمبر دیکھ لیں، کتنے مسنگ پرسن ہیں۔
طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ آزادی کی جنگ نہیں، ان کا مقصد لوگوں سے بھتہ لینا، لوٹ مار اور پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان معدنیات سے مالا مال ہے، چاغی میں 5 ایسے منصوبے ہیں جہاں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری پر کام شروع ہو گیا ہے۔
وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت جو بیانیہ بنا رہی تھی، وہ سارا جھوٹ ثابت ہوا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ظلم، مظلومیت اور محرومی کا بیانیہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اگر این ایف سی میں شیئر بلوچستان کا پنجاب سے زیادہ ہو تو اسے کوئی نہیں دکھاتا، اگر کوئی یہ بتانے کے بجائے کہے کہ محرومی ہے، یہ غلط ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ بلوچستان میں 13 کیڈٹ کالج ہیں جو کسی صوبے میں نہیں، ٹیکنیکل اسکولز اور ووکینشنل کالج 321 ہیں، بلوچستان میں 13 بڑے اسپتال ہیں۔
وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ بلوچستان میں 25000 کلومیٹر کے قریب سڑکیں ہیں، دہشت گرد اگر لوگوں کی جنگ لڑ رہے ہیں تو یہ اسکولوں، اسپتالوں اور بینکوں پر حملہ کیوں کرتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ اگر یہ حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں تو ہائی ویز کے پل گرانا کون سے حقوق ہیں؟ اگر اسکول کالج بینکس جل رہے ہوں تو پھر محرومی کا بیانیہ نہیں بنتا، لاپتہ افراد کا کمیشن کام کر رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وزیرِ داخلہ وہ وزیر تھے جو کوئٹہ پہنچے، اس واقعے کے علاوہ وزیرِ داخلہ ایک درجن سے زائد دفعہ خود گئے ہیں، ان کے اپوزیشن لیڈر نے جعفر ایکسپریس واقعے کی مذمت نہیں کی۔
بعد ازاں قوی اسمبلی کا اجلاس جمعہ دن 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں وفاقی وزیر
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔