چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کا پارلیمانی وفد کے ہمراہ کمبوڈیا کا سرکاری دورہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کا پارلیمانی وفد کے ہمراہ کمبوڈیا کا سرکاری دورہ WhatsAppFacebookTwitter 0 3 February, 2026 سب نیوز
پنوم پنہ(آئی پی ایس )چیئرمین سینیٹ پاکستان، سید یوسف رضا گیلانی نے اعلی سطحی پارلیمانی وفد کے ہمراہ کمبوڈیا کا سرکاری دورہ کیا، جسے پاکستان اور کمبوڈیا کے مابین پارلیمانی سفارت کاری، دوطرفہ تعلقات اور باہمی تعاون کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ دورے کے دوران چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی اور کمبوڈیا کی سینیٹ کے صدر سامدیچ اکا موہا سینا پدیئی تیچو ہن سین کے درمیان اعلی سطحی دوطرفہ ملاقات منعقد ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں پارلیمانی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دینے، سیاسی، معاشی اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ، جبکہ تجارت، سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی تعاون کے امکانات پر بھی گفتگو کی گئی۔چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا یہ دورہ پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، پارلیمانی روابط کو وسعت دینے اور باہمی تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔قبل ازیں، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی اعلی سطحی پارلیمانی وفد کے ہمراہ کمبوڈیا کے دارالحکومت پنوم پنہ پہنچے، جہاں ٹیچو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ استقبال کرنے والوں میں کمبوڈیا کی سینیٹ کے دوسرے نائب صدر ڈاکٹر تھن وتھانا، سینیٹ کی پہلی کمیٹی کے چیئرمین اورکمبوڈیا۔پاکستان سینیٹ فرینڈشپ گروپ کے سربراہ انگی چانفال، پانچویں کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر چھِو یی سیانگ، ڈائریکٹر جنرل پروٹوکول و بین الاقوامی تعلقات انگیون سوک وینگ، اور کمبوڈیا میں پاکستان کے سفیر ظہیرالدین بابر تھیہم شامل تھے۔دورے کے دوران چیئرمین سینیٹ نے انڈیپنڈنس مونومنٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کمبوڈیا کے قومی ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے پھو ل چڑھائے اور کمبوڈیا کی آزادی اور قومی جدوجہد کو سراہا۔ بعد ازاں، انہوں نے آنجہانی کنگ فادر پریاہ بوروم رتناک کادھ کے شاہی یادگاری مجسمے پر بھی حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی، جو کمبوڈیا کی تاریخ، ثقافت اور قومی ورثے کے لیے پاکستان کے گہرے احترام کی علامت ہے۔
چیئرمین سینیٹ کمبوڈیا کی سینیٹ کے سولیڈیرٹی پیلس پہنچے، جہاں پولیار تھیپادی ہال میں ان کے اعزاز میں ایک پروقار سرکاری استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی۔ کمبوڈیا کی سینیٹ کے صدر سامدیچ اکا موہا سینا پدیئی تیچو ہن سین نے ذاتی طور پر چیئرمین سینیٹ پاکستان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماوں نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا، جس کے بعد دونوں وفود کے ارکان کا تعارف کرایا گیا اور رسمی خیرسگالی کا تبادلہ ہوا۔یہ دورہ پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان پارلیمانی، سیاسی اور عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ، باہمی اعتماد کی مضبوطی اور دوطرفہ تعاون کے نئے امکانات کی تلاش میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔اس موقع پر کمبوڈیا کی جانب سے چیئرمین سینیٹ پاکستان کے اعزاز میں شاندار عشائیہ کا اہتمام کیا گیا، جو دونوں ممالک کے مابین گرمجوش دوستانہ تعلقات اور باہمی احترام کا مظہر تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین کی گوادر بندرگاہ پر حملے کی شدید مذمت چین کی گوادر بندرگاہ پر حملے کی شدید مذمت افغانستان کے ایجنٹ دہشتگردوں کو بلوچ عوام کے ساتھ مل کر شکست دیں گے، وزیر دفاع نائب وزیراعظم سے اوورسیز رہنماؤں کی ملاقات، سبز پاسپورٹ کی عزت کو سراہا اسپیکر قومی اسمبلی سے برطانیہ کی ہائی کمشنر کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور پارلیمانی تعاون پر تبادلہ خیال ایپسٹین فائلز میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے نام بھی سامنے آگئے وزیر اعظم آفس کی منظوری سے پیپر ملبری کے درختوں کی کٹائی کی ، سی ڈی اے کا جواب سامنے آگیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔