بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کس بیماری کے علاج کے لیے اسپتال منتقل ہوئے؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
لندن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کی طبیعت ناساز ہونے کے باعث انہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ دو روز تک اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیرِ علاج رہنے کے بعد اب انہیں اسپتال ہی کے ایک کمرے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
اسپتال میں داخلے کی وجہ
الطاف حسین کو اتوار کی شب لندن کے ایک مقامی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق انہیں شدید جسمانی کمزوری محسوس ہو رہی تھی۔ اسپتال منتقلی کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں فوری طور پر خون کی منتقلی کی اور آئی وی ڈرپ لگائی گئی۔
ذہنی دباؤ اور کمزوری
لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے سینئر رہنما مصطفیٰ عزیز آبادی کے مطابق الطاف حسین کی علالت کی بڑی وجہ ذہنی اور نفسیاتی دباؤ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے سے بین الاقوامی جیو پولیٹیکل صورتحال، لندن میں جاری قانونی مقدمات اور مالی مشکلات کے باعث شدید ذہنی تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ مصطفیٰ عزیز آبادی کے مطابق الطاف حسین دن میں مسلسل 18 سے 20 گھنٹے تنظیمی امور میں مصروف رہتے ہیں، جس کے باعث ان کی صحت متاثر ہوئی ہے۔
طبی صورتحال اور ڈاکٹروں کی رائے
سابق رکن قومی اسمبلی اور رابطہ کمیٹی کے رکن محمد کمال ملک کا کہنا ہے کہ خون کی منتقلی کے بعد الطاف حسین کی حالت پہلے سے بہتر اور مستحکم بتائی جا رہی ہے، تاہم وہ اب بھی ڈاکٹروں کی نگرانی میں اسپتال میں ہی موجود ہیں۔ ان کے مطابق بانی ایم کیو ایم کو معمول کے چیک اپ کے لیے اسپتال لایا گیا تھا، جہاں مختلف ٹیسٹوں کے بعد خون کی کمی سامنے آئی، جس کے باعث خون کی منتقلی ضروری ہو گئی۔
محمد کمال ملک نے مزید کہا کہ بانی ایم کیو ایم عمر کے جس حصے میں ہیں اس میں مناسب خوراک بے حد ضروری ہوتی ہے، کیونکہ خوراک کی کمی خون کی کمی کا باعث بنتی ہے۔ ان کے مطابق الطاف حسین کو کوئی مخصوص بیماری لاحق نہیں، بلکہ عمر کے اس مرحلے میں عمومی کمزوری کا سامنا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ الطاف حسین کو صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ گزشتہ سال بھی جولائی اور اگست کے دوران وہ دو مرتبہ اسپتال میں داخل رہے تھے، جہاں انہیں سینے کے انفیکشن اور شدید فلو کی شکایت تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک