WE News:
2026-06-02@23:41:54 GMT

پنجاب اسمبلی میں بلوچستان واقعے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

پنجاب اسمبلی میں بلوچستان واقعے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور

 

پنجاب اسمبلی نے صوبہ بلوچستان میں پیش آنے والے حالیہ دہشتگرد حملے کے خلاف شدید مذمتی قرارداد منظور کر لی، جس میں حملے کو پاکستان کی سلامتی اور ریاستی وقار پر حملہ قرار دیتے ہوئے ملوث عناصر کے خلاف سخت اور فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:فوج میں دہشتگردوں اور غیرملکی ایجنٹس کا گٹھ جوڑ توڑنے کی صلاحیت موجود ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی

پنجاب اسمبلی کا اجلاس اپوزیشن کی عدم موجودگی میں منعقد ہوا، جہاں مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ یہ ایوان صوبہ بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملے کی نہایت سخت اور شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، جسے ایک بزدلانہ، سفاک اور انسانیت سوز کارروائی قرار دیا گیا ہے۔ متن کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں معصوم شہریوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔

قرارداد میں واضح کیا گیا کہ یہ واقعہ محض داخلی امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی سلامتی اور ریاستی وقار پر براہِ راست حملہ ہے۔ ایوان نے الزام عائد کیا کہ بھارت طویل عرصے سے پاکستان، بالخصوص صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی، تخریب کاری اور علیحدگی پسند عناصر کی پشت پناہی میں ملوث رہا ہے، جس کے ناقابلِ تردید شواہد پاکستان متعدد بار بین الاقوامی فورمز پر پیش کر چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جس کے ہاتھ میں ڈور اور پتنگ ہے، بڑی ذمہ داری اسی کی ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی

متن میں بھارتی ریاست کی جانب سے دہشتگردی، خفیہ جنگ اور پاکستان کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت کو بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور ہمسائیگی کے مسلمہ اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ یہ ایوان بھارت کو خطے کے امن کے لیے ایک مستقل اور خطرناک خطرہ سمجھتا ہے۔

ایوان نے واضح اعلان کیا کہ پاکستان کسی بھی بیرونی طاقت، بالخصوص بھارت کی جانب سے دہشتگردی کو بطور ریاستی پالیسی استعمال کرنے کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا اور ایسے تمام اقدامات کا ہر سطح پر بھرپور، مؤثر اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

قرارداد میں شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا گیا جبکہ زخمیوں کی فوری اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا بھی کی گئی۔ اس کے ساتھ وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان میں اس دہشتگرد حملے میں ملوث تمام عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلا امتیاز، سخت اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔

ایوان نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ بھارت کی دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شواہد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر عالمی اداروں کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کیے جائیں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری سفارتی، قانونی اور ریاستی اقدام اٹھایا جائے۔

آخر میں قرارداد کے ذریعے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ صوبہ پنجاب، بلوچستان کے عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور دہشتگردی کے خلاف اس قومی جدوجہد میں کسی قسم کی کمزوری، مصلحت یا دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پنجاب پنجاب اسمبلی دہشتگردی قرارداد.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی دہشتگردی

پڑھیں:

لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور

سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔

کراچی: پنکی کے بعد مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں گرفتار

پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔

ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔

اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

ملزمہ  کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور