سٹی 42: قومی اسمبلی نے بلوچستان کے مختلف شہروں پر دہشت گردوں کے حملوں کے خلاف قرارداد منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورکس خواتین کا استحصال کر کے انہیں ریاست اور معاشرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایوان سے متفقہ طور پر منظور ہونے والی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ واقعات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے جن میں نہ صرف معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور بلکہ خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کرنے جیسے گھناؤنے اور غیر انسانی حربے اپنائے گئے۔

ورلڈ کپ میچ بائیکاٹ، اگر بھارت اور پاکستان سپر 12، سیمی فائنل اور فائنل میں ٹاکرا ہوا تو پھر کیا ہوگا ؟

 قرارداد میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورکس خواتین کے استحصال، زبردستی، ذہنی دباؤ اور بلیک میلنگ کے ذریعے انھیں ریاست اور معاشرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو اسلامی پاکستانی، اور بلوچ اقدار کے سراسر منافی ہے۔

 وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ شہری آبادی، خواتین اور بچوں پر حملے ناقابل معافی جرائم ہیں،

موسم تبدیل ؛ سکولوں کے اوقات کار بھی تبدیل ہوگئے

 قرارداد میں کہا گیا کہ متعدد واقعات میں بیرونی سرپرستی بالخصوص انڈیا کے کردار کے حوالے سے سنجيده خدشات پائے جاتے ہیں، جبکہ بعض ہمسایہ ممالک میں لاجسٹک اور آپریشنل سہولت کاری اور مالی معاونت اور تربیت کے ذریعے دہشت گردی کو تقویت دی جاتی ہے۔ مطالبہ کیا گیا کہ ان بیرونی سپانسرز اور اندرونی سہولت کاروں کے خلاف فوری اور مربوط قومی رد عمل یقینی بنایا جائے جس میں سیاسی، سفارتی عسکری انٹیلی جنس، قانونی اور بیانیاتی محاذ یکجا ہوں۔

ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کا جماعت دہم کے طلبہ کیلئے اہم اعلان

 قومی اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد میں شہداء اور زخمیوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے۔ قبل ازیں نور عالم خان کا کہنا تھا کہ اس قرارداد میں خیبرپختونخوا کو بھی شامل کریں، دہشت گردی کے پی میں سب سے زیادہ ہو رہی ہے، دہشت گردی کی ہر قسم کے خلاف بولنا ہوگا۔

  علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے متفقہ قرارداد منظور کر لی گئی، یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے قرار داد قواعد کو معطل کر کے پیش کی گئی۔

لاہور میں 251 ٹریفک حادثات؛ 320 افراد زخمی

 قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر ایک عالمی تنازع ہے، اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کیا جائے، ایوان برطانیہ کی پارلیمنٹ میں جموں و کشمیر سے متعلق ہونے والی بحث خوش آئند قرار دیتا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ ایوان بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بھارتی فورسز کی مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور بربریت اور بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی یک طرفہ اقدام کی مذمت کرتا ہے۔

بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات ہوئےہیں۔ قائم مقام چیئرمین سینٹ

 قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ بھارت 5 اگست 2019ء کے اقدام کو فوری واپس لے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے، عالمی برادری جموں و کشمیر تنازع کے حل میں فعال کردار ادا کرے۔ ایوان نے قرار داد میں مئی 2025ء کے معرکۂ حق کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کے مسئلہ کشمیر پر مثبت بیانات کا خیر مقدم بھی کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: قرارداد میں کہا گیا قومی اسمبلی کے خلاف گیا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن