گاڑیوں کی خریداری کی ایپ کے ذریعے کروڑوں روپے کے فراڈ کا اسکینڈل بے نقاب، ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
گاڑیوں کی خریداری کی ایپ کے ذریعے کروڑوں روپے کے فراڈ کا اسکینڈل بے نقاب ہوگیا۔
ترجمان لاہور پولیس کے مطابق ایس ایچ او گلبرگ تیمور عباس خان اور چوکی انچارج فردوس مارکیٹ راشد شاہ نے ٹیم کے ہمراہ نجی سوسائٹی میں واقع گھر پر چھاپہ مارا، گلبرگ، کروڑوں کے فراڈ میں ملوث ریکارڈ یافتہ ملزم گرفتار کر لیا گیا، ملزم کی گرفتاری کیلئے ایس پی ماڈل ٹاؤن شہربانو نقوی نے اسپیشل ٹاسک دیا تھا
اے ایس پی گلبرگ نے کہا کہ گرفتار ملزم ایپ کے ذریعے لوگوں سے کروڑوں کا فراڈ کرتا تھا، ملزم ایپ پر مہنگی گاڑیاں فروخت کرنے والوں سے گاڑیوں کی معلومات حاصل کرتا، ملزم شہریوں کو ایپ پر موجود ایڈ اور حاصل شدہ معلومات سے بےوقوف بناتا۔
اے ایس پی رجندر میگھوار نے کہا کہ ملزم بہانے سے کروڑوں کی رقم مختلف اکاؤنٹ میں منگوا کر رفوچکر ہو جاتا تھا، ملزم ابتک کروڑوں روپے کی 29 سے زائد فراڈ کی وارداتیں کر چکا ہے، ملزم ابتک کروڑوں کے 6 مقدمات میں اشتہاری بھی ہے، ملزم لاہور، گوجرانوالہ، ملتان راولپنڈی پولیس کو مطلوب تھا۔
اے ایس پی گلبرگ نے کہا کہ ملزم سے 1 کروڑوں 20 لاکھ روپے برآمد کر لیے گئے، ملزم کیخلاف مقدمہ درج مزید تفتیش جاری ہے، عوام الناس کے جان و مال کی حفاظت اولین ترجیح یے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایس پی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک