محمود خان اچکزئی کے متنازع بیان پر سیاسی رہنماؤں کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
بی این پی مینگل کے ثناء بلوچ، بی این پی عوامی کے اسرار زہری، پیپلز پارٹی کے علی حسن زہری، بی اے پی کے خالد لانگو اور پی ٹی آئی کے دودا شاہوانی نے محمود خان اچکزئی کے بیان پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے بلوچ قبائل سے متعلق متنازع بیان پر صوبے کے مختلف قوم پرست سیاسی رہنماؤں کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سابق سینیٹر ثناء بلوچ نے کہا کہ محمود خان ہمارے بڑے ہیں۔ کبھی کبھی بزرگوں سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں۔ انہوں نے بلوچ عوام سے اپیل کی کہ وہ محمود خان کے خلاف اخلاق کا دامن نہ چھوڑیں۔ ثناء بلوچ نے کہا کہ نہ تو قومی اسمبلی کی اتنی حیثیت ہے اور نہ ہی وہاں بیٹھے اکثیریتی حکمرانوں کو بلوچ و پشتون زمین و حقوق سے کوئی غرض ہے۔ لہٰذا ہم اپنی باتیں گھر میں ہی کریں تو بہتر ہے۔ بلوچستان کے صوبائی وزیر علی حسن زہری نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی سیاست ہمیشہ انتشار، بیان بازی اور قومی مفادات کے خلاف مؤقف پر مبنی رہی ہے۔ ایسے عناصر سستی شہرت کے لیے نفرت کی سیاست کرتے ہیں۔
بی این پی عوامی کے سربراہ و سابق سینیٹر اسرار زہری نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی لسانی اشتعال انگیزی اور بلوچ قوم کو اجتماعی طور پر دہشتگردی سے جوڑنے کی کوشش ناقابل برداشت ہے اور یہ موجودہ سنگین حالات میں صوبے کے مفاد کے سراسر منافی ہے۔ اسرار اللہ زہری نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی حالیہ تقریر مایوس کن، تاریخ کو انتخابی اور وقتی ضرورت کے تحت یک رخی انداز میں پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔ کوئٹہ ہمیشہ ایک مشترکہ کثیرالقومی شہر رہا ہے۔ جسے میں کسی ایک قوم یا شناخت کو مرکز بنا کر پورے جغرافیے کو متنازعہ بنانے کی سوچ نہ اپوزیشن کی اجتماعی ترجمانی ہو سکتی ہے اور نہ ہی یہ پارلیمانی دانش کے زمرے میں آتی ہے۔
بلوچستان کے سابق وزیر خالد لانگو نے کہا کہ محمود خان کی تقریر نفرت اور تعصب پر مبنی تھی۔ جب الیکشن نزدیک ہو یا انکی پوزیشن نیچے چلی جاتی ہے تو یہ بلوچ پشتون ایشوز اٹھا لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو نفرت پھیلانے والی اور تعصب کو ہوا دینے والی بات ہے۔ محمود خان اچکزئی بوڑھے ہو گئے ہیں۔ انکی بھی خواہش ہے کہ صدر یا وزیراعظم بنیں، جو نہیں ہو پاتا تو دماغی مسئلے بھی ہوجاتے ہیں۔ خالد لانگو نے کہا کہ ہم کوئٹہ کے حوالے سے تاریخی ثبوت پیش کرنے کے لئے تیار ہیں، بشرطکہ محمود خان اچکزئی بھی اپنے پشتون اور اچکزئی ہونے کا ثبوت دیں۔ کیونکہ اچکزئی قبائل کے بعض بزرگ کہتے ہیں کہ محمود خان اچکزئی اصل میں قزلباش ہیں۔
تحریک انصاف کے دودا خان شاہوانی نے کہا کہ محمود خان کوئٹہ سے متعلق جو دعویٰ کر رہے ہیں اس کے ثبوت سے پہلے اپنے پشتون اور اچکزئی ہونے کا ٹھوس ثبوت پیش کرے۔ کوئٹہ جیسے شال کہا جاتا تھا، یہاں شاہوانی قبائل کی تاریخی زمین ہونے کے شواہد موجود ہیں، اور ضرورت پڑنے پر ہم یہ ثبوت عوام کے سامنے پیش بھی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نفرت کی سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔ اس عمر میں انسان کو انسانیت، برداشت اور حق گوئی کی بات کرنی چاہئے، نہ کہ نفرت اور تقسیم پھیلانی چاہئے۔ پشتون اور بلوچ برادر اقوام ہیں، ایک خاندان کی مانند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہ لڑیں گے، نہ کسی کے ٹوپی ڈرامے میں آئیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ محمود خان انہوں نے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔